
دبئی:(ایجنسیاں) عرب اتحاد نے یمن سے حوثی ملیشیا کے بارود سے لدے بمبار ڈرون طیاروں سے سعودی عرب پر حملوں کی سازشیں جاری ہیں۔ کل ہفتے کے روز حوثی باغیوں نے مملکت پر کئی ڈرون حملے کیے تاہم محکمہ دفاع نے دو گھنٹے میں حوثیوں کے 7 حملے ناکام بنا دیئے۔
سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے گذشتہ 24 گھنٹے میں اس سے پہلے حوثیوں کے تین ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنائے ہیں۔عرب اتحاد نے جمعہ کی شب حوثی ملیشیا کے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی اطلاع دی تھی۔
عرب اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس میزائل حملے میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ ہفتے کے روز حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بارود سے لدے 4 ڈرون حملے کیے تاہم ان ڈرون طیاروں کو فضا ہی میں تباہ کردیا گیا۔
عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری اہداف کے تحفظ کے لیے آپریشنل اقدامات کر رہے ہیں۔حوثی ملیشیا نے حالیہ ایام میں سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ حوثیوں نے جمعہ کی صبح اور سہ پہرکو خمیس مشیط کی جانب بارود سے لدے دو ڈرون چھوڑے تھے لیکن عرب اتحادی فورسز نے انھیں فضا ہی میں تباہ کردیا تھا۔
خمیس مشیط سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبہ عسیر میں ابھا شہر سے مشرق کی جانب واقع ہے۔عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز حوثی ملیشیا نے سعودی عربپر دو گھنٹے میں سات حملے کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔
ریاض کی سمت داغا جانے والا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا: عرب اتحاد
یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کی صبح بتایا ہے کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض شہر کی سمت داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا۔
علاوہ ازیں مملکت کی سمت بھیجے گئے 6 بارودی ڈرون طیاروں کا راستہ بھی روک دیا گیا۔ حوثیوں کی اس کارروائی کا مقصد جنوبی علاقے اور اسی طرح جازان اور خمیس مشیط میں شہریوں کو منظم اور دانستہ طور پر نشانہ بنانا ہے۔ترجمان کے بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ سعودی رائل ایئر فورس حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں کے اندر سے بھیجے جانے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کو روکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
ترکی المالکی نے باور کرایا کہ عرب اتحاد کی مشترکہ فورسز شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی انسانی قانون کی رعایت کے ساتھ مذکورہ حملوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی عمل درامد کیا جا رہا ہے۔



