قاتلانہ حملے نے زندگی کے متعلق میرے نقطہ نظر کو بدل دیا: ٹرمپ
امریکی 20 سالہ نوجوان کے ہاتھوں قتل کی کوشش کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔
واشنگٹن، 18جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سابق امریکی صدر اور موجودہ امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر 13 جولائی کو ایک امریکی 20 سالہ نوجوان کے ہاتھوں قتل کی کوشش کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ ٹرمپ نے ریپبلکن نیشنل کنونشن میں حامیوں کے ایک گروپ کے سامنے اعلان کیا کہ موت کی کوشش میں زندہ بچ جانے سے ان کے رویے اور زندگی کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔انہوں نے جمعرات کو پی بی ایس نیوز پر نشر ہونے والی خصوصی تقریب کے ایک ویڈیو کلپ میں مزید کہا کہ انہیں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ بہترین انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ ان کی انتخابی مہم انہیں دوبارہ صدارت تک پہنچانے کے طریقہ کار کے حوالے سے ہے۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز پنسلوانیا میں ایک بڑے اجتماع میں ہونے والی فائرنگ کے بارے میں کی۔ اس فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ حملہ آور تھامس میتھیو کروکس بھی مارا گیا تھا۔صدر نے خود پر فائرنگ کرنے والے نوجوان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہجوم چیخ رہا تھا ”قاتل! قاتل! قاتل!”۔ انہوں نے کہا یہ معاملہ مکمل ناکامی نہیں تھا بلکہ یہ بڑا ہولناک تھا کہ ایسا ہوا۔ جو کچھ ہوا اس کی توقع بالکل نہیں تھی۔
ٹرمپ کی یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف بی آئی، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور کانگریس نے سیکرٹ سروس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں سے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔مزید برآں امریکی ایوان نمائندگان میں نگران کمیٹی نے بدھ کی شام اعلان کیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کو محفوظ بنانے میں ناکامی کے پس منظر میں 22 جولائی کو سیکرٹ سروس کے سربراہ سے بھی بات چیت کرے گی۔ریپبلکن سینیٹر جان باراسو نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے بندوق بردار کی شناخت قانون نافذ کرنے والے حکام نے ایک ”مشتبہ” کے طور پر فائرنگ کرنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی کردی تھی۔ باراسو کے بیانات امریکی کانگریس اور امریکی خفیہ سروس کے ارکان کے درمیان بریفنگ کے بعد سامنے آئے ہیں۔
سیکرٹ سروس اور ایف بی آئی کے نمائندوں نے کانگریس میں قانون سازوں کو ایک کانفرنس کال کے دوران بتایا کہ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے 20 سالہ تھامس میتھیو کروکس کو میجر ڈپریسو ڈس آرڈرکی تشخیص ہوئی ہے۔ اجلاس میں سیکرٹ سروس کی خاتون ڈائریکٹر کمبرلی چِٹل نے اعتراف کیا کہ ان کی ایجنسی نے غلطیوں اور ناکامیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق میٹنگ میں حصہ لینے والے ایک قانون ساز نے یہ بات بتائی۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی ایجنسی نے اب تک 200 سے زیادہ انٹرویوز کر لیے ہیں اور عہد کیا ہے کہ تفتیش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ متعدد ذرائع جو وفاقی سیکیورٹی حکام کے ساتھ گفتگو میں شریک تھے کے مطابق ابھی تک تھامس میتھیو کروکس کے حملے کا کوئی واضح مقصد سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے متعلق تحقیقات میں پیشرفت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے سے متعلق ایف بی آئی اور سیکرٹ سروس کی تحقیقات میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔حکام کے مطابق مقامی پولیس نے ٹرمپ کے گن مین پر گولی چلائی،جس کا مقصد انہیں الرٹ کرنا تھا، حملہ آورکی گاڑی سے برآمد بموں میں ریڈیو کنٹرول سسٹم استعمال کیا گیا تھا۔حکام نے بتایا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ حملہ آور نے ٹرمپ کی پیشی کی تاریخوں اور نیشنل کانفرنس کی معلومات بھی حاصل کر رکھی تھی۔
دوسری جانب ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ روکنے میں ناکامی پر ڈائریکٹر سیکرٹ سروس کمبرلی چیٹل ایوان نمائندگان کے سامنے پیش ہونے پر آمادہ ہو گئیں۔ ڈائریکٹر سیکرٹ سروس 22 جولائی کو امریکی ہاؤس کمیٹی کے سامنے گواہی دیں گی۔یاد رہے کہ ہفتے کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ ہوئی جس سے وہ زخمی ہوگئے اور فائرنگ سے ریلی میں شریک ایک شخص بھی ہلاک ہوا جبکہ حملہ آور کو فوراً ہی مار دیا گیا تھا۔امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والا 20 سال کا مقامی نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی ہے جو یاست پینسلوینیا کا ہی رہائشی ہے۔ تاہم ابھی حملہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔



