بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں 4 رکاوٹیں کیا ہیں؟

قیدی تبادلہ معاہدے میں فوجی دباؤ ہماری مدد کر رہا ہے: نیتن یاھو

دبئی، 19جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ایک اسرائیلی وفد کی قاہرہ آمد کے ساتھ ساتھ ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹیں موجود ہیں۔اسی موقع پر وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں فوجی دباؤ تل ابیب کی مدد کر رہا ہے۔ نیتن یاہو نے رفح کا دورہ کیا اور وہاں کئی فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا معاہدے کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ تعداد میں قیدیوں کو رہا کرنے کے ہمارے مطالبے میں فوجی دباؤ ہماری مدد کر رہا ہے۔نیتن یاھو نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے سے متعلق مطالبات پر ہماری ثابت قدمی کے ساتھ عسکری طور پر دوہرا دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ یہ عسکری دباؤ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن رہا بلکہ اسے مضبوط کر رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ فلاڈیلفیا محور اور رفح کراسنگ پر ہمارا کنٹرول جاری رکھنے کے لیے بھی عسکری دباؤ ضروری ہے۔

امریکی ایجنسی بلومبرگ کی طرف سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ بات چیت سے واقف ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کو 4 اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔رکاوٹ بننے والا پہلا اہم نکتہ ان یرغمالیوں کا مسئلہ ہے جن کی رہائی کا اسرائیل مطالبہ کر رہا ہے۔

دوسرے نکتے میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ مطالبہ شامل ہے کہ عسکریت پسند شمالی غزہ کی پٹی میں واپس نہ جائیں۔

تیسرا نکتہ بھی نیتن یاھو کی خواہش ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کراسنگ پر موجود رہیں۔

رکاوٹ بننے والا چوتھا نکتہ نیتن یاھو کی یہ ضد ہے کہ اسرائیل کو غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا پابند نہ کیا جائے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نیتن یاہو ایک آزاد طریقہ کار پر بھی زور دے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حماس یا اسلامی جہاد تحریک کے کسی بھی رکن یا ان کے ہتھیاروں کو شمالی غزہ کی پٹی میں واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔لیکن بات چیت سے واقف ایک شخص نے وضاحت کی کہ یہ شرط ممکن نہیں ہے کیونکہ شمال میں اب بھی کسی بھی غیر دریافت شدہ ہتھیاروں کے ذخیرے تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ اسلحہ عام شہری ہونے کا بہانہ کرنے والے سے مل سکتا ہے۔

تنازع کا ایک اور ممکنہ نکتہ وہ شق ہے جس کے تحت اسرائیل کو غزہ کے آبادی والے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانے کی ضرورت ہے۔حماس اور قاہرہ نے رفح شہر اور مصر کے ساتھ سرحدی گزرگاہ کو ان علاقوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ جہاں سے اسرائیلی فوج کو نکلنا ہوگا۔ دوسری طرف نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہاں اسرائیلی موجودگی انتہائی اہم ہے۔بائیڈن کی طرف سے اعلان کردہ تجویز کے تحت ابتدائی جنگ بندی کے سولہویں دن اسرائیل اور حماس دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع کریں گے۔ اگر یہ مذاکرات طول پکڑتے ہیں تو امریکی صدر کے مطابق ابتدائی جنگ بندی کو مقررہ چھ ہفتوں سے آگے بڑھا دیا جائے گا۔

نیتن یاہو انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ حماس اس شق کو استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا سکتی ہے۔ اس طرح مذاکرات می 6 ہفتے کی تعطل کا مطالبہ کر سکتی ہے جس کے بعد جنگ بندی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ 31 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک اور جنگ بندی کے لیے اسرائیلی تجویز کا بتایا تھا لیکن اس کے بعد سے ہونے والی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔واضح رہے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر بمباری، گولہ باری اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ صہیونی فورسز نے اب تک 39 ہزار کے قریب فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button