سرورققومی خبریں

کیا ہے مودی حکومت کی نئی انٹرن شپ اسکیم؟

عام بجٹ 2024 کے بعد کیا ہوگا مہنگا اور کیا ہوگا سستا؟

نئی دہلی ، 23جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج لوک سبھا میں 2024-25 کا مرکزی بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے اس بجٹ میں کئی بڑے اعلانات کیے ہیں جن میں سے ایک اہم اعلان نوجوانوں کو انٹرن شپ دینا اور ان کے لیے انٹرن شپ کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔نرملا سیتا رمن نے بجٹ میں اعلان کیا ہے کہ مودی حکومت کی 5ویں نئی اسکیم کے تحت 500 بڑی کمپنیوں میں انٹرن شپ کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کی انٹرن شپ اسکیم سے ایک کروڑ نوجوان مستفید ہوں گے۔یہ نوجوانوں کے لیے پی ایم مودی کا خصوصی انٹرن شپ پیکج ہے۔ اس کے تحت نوجوانوں کو 500 ٹاپ کمپنیوں میں انٹرن شپ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ ہر ماہ 5000 روپے کا انٹرن شپ الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

اس کے ساتھ انٹرن شپ مکمل کرنے والے نوجوانوں کو 6000 روپے کی الگ رقم بھی دی جائے گی۔ اس سرکاری اسکیم کے تحت 5 سالوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ ان نوجوانوں کو 12 ماہ کے لیے حقیقی زندگی کے کاروباری ماحول، مختلف پیشوں اور روزگار کے مواقع سے بھی آگاہی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اپنے سی ایس آر (کارپوریٹ سماجی ذمہ داری) فنڈز سے ٹریننگ اور انٹرن شپ کے اخراجات کا 10 فیصد خرچ کریں گی۔ کمپنیز ایکٹ 2013 کے مطابق، منافع بخش کمپنیوں کے بعض طبقوں کو کسی خاص مالی سال میں سی ایس آر سرگرمیوں کے لیے تین سالہ سالانہ منافع کا کم از کم 2 فیصد خرچ کرنا ہوتا ہے۔

عام بجٹ 2024 کے بعد کیا ہوگا مہنگا اور کیا ہوگا سستا؟ سونا-چاندی اور موبائل سمیت کئی چیزوں پر پڑے گا واضح اثر

مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے آج نئی حکومت کا پہلا عام بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ کو لے کر عوام بہت امیدیں لگائے بیٹھی تھی، حالانکہ کئی محاذ پر مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ لیکن کچھ شعبے ایسے ضرور ہیں جہاں سے خوشیوں بھری خبر سامنے آئی ہے۔ مثلاً نئے بجٹ میں کچھ اشیاء پر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے جس سے صارفین کو راحت ملے گی۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ پیش کردہ تازہ بجٹ کے بعد کیا مہنگا ہوگا اور کیا سستا۔سستی ہونے والی چیزیں:کینسر سے جڑی تین ادویات پر کسٹم ڈیوٹی ہٹائی گئی ہے۔ ایکسرے ٹیوب اور فلیٹ پینل ڈٹیکٹر پر بھی درآمدات ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے۔موبائل فون اور پارٹس، پی سی بی اور موبائل فون چارجر پر کسٹم ڈیوٹی 15 فیصد گھٹ گئی ہے۔25 ضروری معدنیات پر کسٹم ڈیوٹی نہیں لگے گی۔سولر سیل اور سولر پینل کی مینوفیکچرنگ کے سامان پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔

سونے اور چاندی پر کسٹم ڈیوٹی گھٹا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے زیورات کی قیمت کم ہو جائے گی۔ پلاٹینم پر کسٹم ڈیوٹی گھٹ کر اب 6.4 فیصد ہو گئی ہے۔مہنگی ہونے والی چیزیں:پی وی سی فلیکس بینر کی درآمد اب پہلے کے مقابلے مہنگی ہو جائے گی۔کچھ ٹیلی مواصلات سامانوں کی درآمد بھی اب مہنگی ہوگی۔ دراصل بنیادی کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی گئی ہے۔ ’میک اِن انڈیا‘ کے تحت ملک میں بنے سستے گھریلو مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے یہ اعلان کیا ہے۔ایک سال سے زیادہ تک رکھے گئے ایکویٹی انویسٹمنٹ مہنگے ہوں گے۔ اس شعبہ میں ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔ایک سال سے زیادہ رکھے گئے شیئر بھی مہنگے ہوں گے۔ اس شعبہ میں ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کیا گیا ہے۔امونیم نائٹریٹ پر درآمد ٹیکس 10 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔خود سے تباہ (ختم) نہ ہونے والے پلاسٹک مہنگے ہوں گے۔ اس پر درآمدات ٹیکس 25 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔

بجٹ 2024:دفاعی شعبے کے بجٹ میں مایوس کن کٹوتی

 وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج منگل کو مالی سال 2024-2025 کا مکمل بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں انہوں نے زراعت سے لے کر نوجوانوں کی ہنر مندی تک کئی شعبوں کے لیے اعلانات کیے ہیں۔ دوسری جانب اس بجٹ میں ریلوے اور دفاع جیسے شعبوں کو مایوسی ہوئی۔ جب کہ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں صرف ایک بار ریلوے کا ذکر کیا، دفاعی شعبے کے بجٹ میں زبردست کٹوتی کی گئی۔مالی سال 2024-2025 کے مکمل بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے 4.54 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں عبوری بجٹ میں دفاعی شعبے کو 6.21 لاکھ کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار مہینے پہلے آنے والے عبوری بجٹ کے مقابلے میں اب پورے بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے مختص رقم 1.67 لاکھ کروڑ روپے کم ہو گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دفاعی شعبے کے بجٹ میں اتنی کٹوتی کی گئی ہے۔اس سے قبل مودی حکومت کے دور میں دفاعی شعبے کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا تھا۔

اس بار کے بجٹ سے پہلے گزشتہ چار سالوں میں دفاعی بجٹ کے سائزمیں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا تھا۔2020 کے بجٹ میں حکومت نے دفاعی شعبے کے لیے 4.71 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا تھا۔ اس کے بعد 2021 کے بجٹ میں دفاعی شعبے کے اخراجات کو بڑھا کر 4.78 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا۔2022 کے بجٹ میں پہلی بار دفاعی بجٹ کا حجم 5 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر کے 5.25 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ جب کہ گزشتہ سال یعنی 2023 کے بجٹ میں مودی حکومت نے دفاعی شعبے کو 5.94 لاکھ کروڑ روپے دیے تھے۔ چار ماہ قبل آنے والے عبوری بجٹ میں دفاعی بجٹ کا حجم چھ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔ تاہم اس بار دفاعی شعبے کو 4.54 لاکھ کروڑ روپے ملے ہیں جو 4 سال میں سب سے کم ہے۔

سال 2019 میں دفاعی شعبے کو اس سے بھی کم یعنی 3.19 لاکھ کروڑ روپے ملے۔اگر ہم گزشتہ سال کے بجٹ پر نظر ڈالیں تو گزشتہ 4 سالوں کے دوران دفاعی شعبے کے بجٹ میں 6.5 فیصد کی سالانہ شرح (سی اے جی آر) سے اضافہ ہورہا تھا۔ مودی حکومت دفاعی شعبے میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کے ایک Ambitious planپر کام کر رہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بھارت اپنی دفاعی ضروریات کے لیے زیادہ سے زیادہ مواد تیار کرے اور درآمدات پر انحصار کم کرے۔ اس کے ساتھ حکومت کا زور فورسز کو جدید بنانے پر ہے۔ایسے میں لوگ دفاعی شعبے کا بجٹ 6 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کی امید کر رہے تھے۔

راہل اور اکھلیش کا بجٹ پر سیدھا حملہ، کہا یہ بجٹ ’کرسی بچاؤ بجٹ‘ ہے

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی بجٹ کو ’’کرسی بچاؤ بجٹ‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ دوسری ریاستوں کی قیمت پر بی جے پی کے اتحادیوں سے کھوکھلے وعدے کرنے والا بجٹ ہے۔کانگریس کے سابق صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ حالیہ 2024 لوک سبھا انتخابات کے لیے کانگریس کے منشور کی کاپی پیسٹ ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، گاندھی نے کہا ’ کرسی بچاؤ بجٹ‘۔ اتحادیوں کو خوش کریں: دوسری ریاستوں کی قیمت پر ان سے کھوکھلے وعدے، کرونیز کو خوش کریں، عام ہندوستانیوں کے لیے کوئی راحت نہیں صرف اے اے (AA) کو فائدہ۔کانگریس نے مرکزی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعوی کیا کہ مودی حکومت نے بجٹ میں کانگریس کے لوک سبھا انتخابات 2024 کے منشور سے بہت کچھ اٹھایا ہے۔ کانگریس نے نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پیش کردہ عام بجٹ پر کہا کہ یہ کاپی پیسٹ حکومت ہے۔حزب اختلاف کی جماعت نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ حکومت نے مستقل طور پر تسلیم کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری ایک قومی بحران ہے،اور کہا کہ بجٹ میں سیاسی مجبوریاں لکھی ہوئی ہیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو مرکزی بجٹ 2024-25 کو سیاسی طور پر متعصب اور غریب مخالف قرار دیا اور بجٹ میں مغربی بنگال کے نظر انداز کرنے پر مرکز پر تنقید کی۔وزیر اعلیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ مغربی بنگال نے کیا غلط کیا ہے کہ اسے مرکز نے نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ،اس مرکزی بجٹ میں بنگال کو مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ہے۔ اس میں غریبوں کے مفاد کو نہیں دیکھا گیا ہے۔ بجٹ سیاسی طور پر متعصبانہ ہے۔ یہ بے سمت ہے اور اس کا کوئی ویژن نہیں ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی مشن کی خدمت کے لیے ہے۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بجٹ کو حکومت بچانے والا بجٹ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ سرکار بچانی ہے تو اچھی بات ہے کہ بہار اور آندھرا پردیش کو وشیش منصوبہ بندی سے جوڑا گیا ہے۔ اکھلیش نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے پچھلے 10 سالوں میں بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے۔اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ، جب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے اور نوجوانوں کے لیے روزگار یقینی نہیں بنایا جاتا، لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

دہلی کی وزیر خزانہ آتشی نے منگل کو کہا کہ بجٹ میں، بی جے پی زیرقیادت مرکز کو 2.32 لاکھ کروڑ روپے ٹیکس ادا کرنے کے باوجود، قومی راجدھانی کو مرکزی ٹیکسوں میں اس کے حصے کے طور پر ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، آتشی نے کہا کہ دہلی نے ایم سی ڈی کے لیے بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے مرکز سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو چیلنج کیا کہ مرکز میں اس کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ آخری 11 بجٹوں میں دہلی کے لئے ایک چیز بھی دکھائیں۔کیرالہ کے وزیر خزانہ کے این بالاگوپال نے منگل کو مالی سال 2024-25 کے مرکزی بجٹ کو سیاسی مشق قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انھوں نے بجٹ کا مقصد مرکز میں این ڈی اے اتحاد کو بچانا قرار دیا۔بالاگوپال نے کہا کہ بجٹ عوام مخالف اور ملک دشمن ہے جس میں کیرالہ کی جائز ضروریات سمیت مختلف ریاستوں کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ وزیر نے کہا کہ بجٹ اشارہ کرتا ہے کہ مودی حکومت کوآپریٹو فیڈرلزم کی بات کرنے کے قابل نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button