سروے میں کملا ہیرس کی ٹرمپ پر دو پوائنٹس کی برتری
کملا ہیرس پر جنسی تفریق کے حملوں سے باز رہیں، ریپبلکنز رہنماؤں کا پارٹی اراکین پر زور
واشنگٹن، 24جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)صدر جو بائیڈن کے امریکی صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے اور اس کی جگہ کملا ہیرس کی امیدواری کی حمایت کرنے کے بعد ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی نائب صدر کملا ہیرس ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے دو فیصد آگے ہیں۔Reuters/Ipsos کی طرف سے کرائے جانے والے پول کے دوران پیر اور منگل کو رائے لی گئی۔ یہ سروے ریپبلکن نیشنل کنونشن کے بعد کرایا گیا۔ جہاں ٹرمپ نے جمعرات کو صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کی نامزدگی کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا۔کملا ہیرس کی مہم کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز کے سروے میں تین فیصد پوائنٹس کی غلطی کے ساتھ ٹرمپ کو 44 فی صد سے 42 فی صد تک لے گئے۔
15 اور 16 جولائی کو کرائے گئے پول میں ہیرس اور ٹرمپ 44 فیصد پر برابر رہے جب کہ اس مہینے کے پہلے اور دوسرے دن کرائے گئے پول میں ٹرمپ ایک فیصد پوائنٹ آگے بڑھے۔ دونوں میں غلطی کا ایک ہی مارجن ہے۔قومی انتخابات امیدواروں کے لیے امریکیوں کی حمایت کے اہم اشارے فراہم کرتے ہیں، لیکن مسابقتی ریاستوں کا ایک گروپ عام طور پر امریکی الیکٹورل کالج میں اپنے نتائج کا فیصلہ کرتا ہے،جس کی بنیاد پر صدر کے انتخاب کا حتمی اعلان کیا جاتا ہے۔یہ سروے آن لائن کیا گیا تھا اور اس میں 1,241 امریکیوں کو شامل کیا گیا تھا جنہیں ملک بھر میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے، جن میں 1,018 رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔متوازی طور پر امریکی کانگریس میں دونوں ڈیموکریٹک رہنماؤں نے منگل کو صدارتی انتخابات کے لیے کملا ہیرس کی امیدواری کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ہیرس کو اگلے نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پارٹی کے زیادہ تر ارکان کی حمایت درکار ہے۔سینیٹ کے اکثریتی رہ نما چک شومر نے ایوان کے اقلیتی رہ نما حکیم جیفریز کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہاکہ ہم آج یہاں نائب صدر کملا ہیرس کو اپنی حمایت کی پیشکش کرنے کے لیے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ہیرس کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو بائیڈن کی دستبرداری کے فیصلے نے پارٹی کو متحد کر دیا۔ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہ نما حکیم جیفریز نے کہا کہ ہیرس ٹرمپ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہیرس امریکہ کی 47 ویں صدر بنیں گی۔پیر کو کملا ہیرس نے تصدیق کی کہ انہیں صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتنے کے لیے درکار اہم حمایت حاصل ہے۔
کملا ہیرس پر جنسی تفریق کے حملوں سے باز رہیں، ریپبلکنز رہنماؤں کا پارٹی اراکین پر زور
واشنگٹن، 24جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ریپبلکن رہنماؤں نے پارٹی کے اراکین کو نائب صدر کملا ہیرس کے خلاف کھلے عام نسل پرستانہ اور جنسی تفریق پر مبنی حملوں کے استعمال سے متعلق خبردار کیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کو ریپبلکنز کے بند کمرے کے ایک اجلاس میں نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ہڈسن نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ بائیڈن ہیرس انتظامیہ کی پالیسیوں میں صرف ان کے کردار پر تنقید کریں۔اجلاس کے بعد ایوان کے سپیکر مائیک جانسن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ الیکشن پالیسیوں پر ہوگا نہ کہ شخصیات پر۔یہ وارننگز ریپبلکنز کے لیے ایک ایسی ڈیموکریٹ کے خلاف نئے چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو کامیابی کی صورت میں پہلی خاتون اور پہلی ایشیائی سیاہ فام شخصیت ہوں گی۔
صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی خاص طور پر نسل پرستی اور جنسی تفریق پر مبنی حملوں کی ایک تاریخ ہے جو سوئنگ ووٹرز کو متاثر کر سکتا ہے۔جب سے بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ انتخابات کی دوڑ سے دستبردار ہو گئے ہیں، ریپبلکنز نے ہیرس کے خلاف ایک لمبی فہرست تیار کی ہے۔ٹرمپ کے انتخابی مہم کے عہدیداروں اور دیگر ریپبلکنز نے ہیرس پر بائیڈن کی صحت کے مسائل کو چھپانے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، اور وہ کیلیفورنیا میں بطور پراسیکیوٹر ان کے ریکارڈ کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔ایوان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ ٹرمپ اور ہیرس دونوں کے پاس وائٹ ہاؤس کی پالیسی کا ریکارڈ ہے۔جانسن نے مزید کہا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں میں شریک رہی ہیں۔
منگل کو ایک بیان میں ٹرمپ انتخابی مہم کے تجزیہ کار ٹونی فیبریزیو نے کہا کہ انتخابی مہم کے بنیادی اصول تبدیل نہیں ہوئے ہیں اور ہیرس کا ڈیموکریٹک امیدوار ہونے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔گفتگو سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رچرڈ ہڈسن نے منگل کو اجلاس کے ارکان سے کہا کہ این آر سی سی اس بات پر توجہ دے رہی ہے کیسے کملا ہیرس، بائیڈن سے بھی زیادہ پروگریسیو ہیں اور انتظامیہ کی تمام پالیسیوں کی ذمہ داری لیتی ہیں۔سینیٹر سٹیو ڈینس جو نیشنل ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے ہیرس کو ’بہت زیادہ لبرل‘ قرار دیا۔ ’وہ آئرش کیتھولک نہیں ہیں جو سکرینٹن میں پلی بڑھیں۔ وہ سان فرانسسکو کی لبرل ہیں۔
نیوز میکس پر ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کملا ہیرس نے ’سان فرانسسکو شہر کو تباہ کر دیا۔‘ کملا ہیرس نے نے 2011 میں وہاں ڈسٹرکٹ اٹارنی کی نوکری چھوڑ دی تھی۔ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ایک بیان میں کہا کہ کملا ہیرس جو بائیڈن کی طرح کمزور، ناکام اور نااہل ہیں اور وہ خطرناک حد تک لبرل بھی ہیں۔ریپبلکن تجزیہ کار نیل نیو ہاؤس نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ کملا ہیرس کے خلاف اسی لہجے میں بحث کر سکتے ہیں جس انداز میں انہوں نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ بحث کی تھی۔ کملا ہیرس کے پاس وہ منفی پہلو نہیں ہیں جو ہلیری کے پاس تھے اور وہ نسبتاً نیا سیاسی چہرہ ہیں۔



