بین الاقوامی خبریںسرورق

موساد نے اسماعیل ھنیہ کو مارنے کے لیے دور سے اسمارٹ بم دھماکہ کیا: ذرائع

اسرائیل سے اپنے اعلیٰ کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے، حزب اللہ کا اعلان

لندن، 2 اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل سے واقف دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی موساد نے ھنیہ کو تہران میں ایرانی سرکاری رہائش گاہ پر ان کے سونے کے کمرے میں پہلے سے نصب بارودی مواد سے اڑایا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ موساد دھماکہ خیز ڈیوائس کو ایک اعلیٰ حفاظتی عمارت میں نصب کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اس سے نہ صرف ایران میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کی گہری رسائی کا پتہ چلتاہے بلکہ ایرانی انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروسز کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو بخوبی علم تھا کہ اسماعیل ھنیہ تہران کے دوروں کے دوران کس کمر میں رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ بم کو کمرے میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا۔ بم ایک ہائی ٹیک ڈیوائس تھا جس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا تھا۔موساد کے ایجنٹوں جو ایران کی سرزمین پر موجود تھے نے دور سے دھماکہ کیا۔ ھنیہ کی کمرے میں موجودگی کی انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد حملہ کیا گیا۔

ایک ذریعے نے کہا ہے کہ موساد کا موقف یہ تھا کہ ھنیہ کو قتل کرنے سے سات اکتوبر کے حملے کے متاثرین کو انصاف ملے گا اور یرغمالیوں کے معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے مقابلے میں ھنیہ کامعاہدے پر سخت نظریہ تھا۔ اس طرح ھنیہ کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل بنا رہے تھے۔واضح رہے سات اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز کو انکشاف کیا تھا کہ ایک دھماکہ خیز مواد تہران کے اس گیسٹ ہاو?س میں خفیہ طور پر سمگل کیا گیا تھا جہاں وہ مقیم تھے۔ اسی دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے ھنیہ کی موت ہوئی ہے۔ یہ بارودی مواد تقریبا دو ماہ قبل گیسٹ ہاوس میں چھپایا گیا تھا۔

اسرائیل سے اپنے اعلیٰ کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے، حزب اللہ کا اعلان

بیروت، 2 اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیل کی جانب سے گروپ کے اعلٰی فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حسن نصراللہ نے جمعرات کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ حزب اللہ کے دہائیوں پرانے دشمن نے ’تمام حدیں‘ عبور کر لی ہیں۔یاد رہے کہ منگل کو بیروت کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں اعلٰی کمانڈر فواد شکر، ایک ایرانی فوجی مشیر اور پانچ عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔فواد شکر کی ہلاکت تقریباً دو دہائیوں میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے لیے سب سے بڑا دھچکہ ہے اور اس نے جنوبی سرحد کے پار حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

حزب اللہ کے مارے گئے کمانڈر کی نمازِ جنازہ کے موقع پر حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ اب تنازع ماضی کے برعکس ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اور اسرائیل نے گروپ کے گڑھ پر حملے کے ساتھ ریڈلائن عبور کر لی ہے۔حسن نصراللہ نے نام لیے بغیر کہا کہ بعض ممالک نے اُن کے گروپ کو ’قابل قبول‘ طریقے سے جوابی کارروائی کرنے کو کہا ہے یا پھر نہ کرنے کو کہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے لیے اسرائیل کو جواب نہ دینا ’ناممکن‘ ہوگا۔نصراللہ نے کہا کہ جو بھی اس خطے کو بدامنی سے روکنا چاہتا ہے اسے غزہ میں جنگ بندی پر کام کرنا چاہیے۔حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے علاوہ یہاں کوئی دوسرا حل کارآمد نہیں ہو گا۔

ملائیشین وزیر اعظم کی اسماعیل ھنیہ سے متعلق پوسٹ میٹا نے ہٹا دی

 ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے جمعرات کے روز میٹا فیس بک پر اس وقت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جب مقتول حماس رہنما اسماعیل ھنیہ کے بارے میں وزیر اعظم کی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔انور ابراہیم نے میٹا کی اس حرکت کو بزدلی قرار دیا ہے۔ ملائیشین حکومت اور فیس بک کے درمیان پوسٹ ہٹانے پر تازہ تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی ملائیشیا کی حکومت کو فیس بک سے یہ شکایات پیدا ہو چکی ہیں۔مسلم اکثریت کے حامل ملک ملائیشیا فلسطینی کاز کا حامی ملک ہے۔ انور ابراہیم نے حماس کے ایک ذمہ دار کے ساتھ اسماعیل ھنیہ کے قتل پر تعزیتی فون کال کی ریکارڈنگ فیس بک پر پوسٹ کی تھی، جسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا۔حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات میزائل حملے سے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ تہران میں نو منتخب صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے گئے تھے، جہاں رات کے وقت سوتے ہوئے ان کے ساتھ یہ واردات کی گئی۔

اس واقعے نے پورے خطے میں کشیدگی اور جنگی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے دوماہ قبل مئی کے دوران دوحہ میں حماس سربراہ کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا ‘ حماس کی سیاسی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ مگرعسکری سطح پر تعلقات نہیں ہیں۔ میٹا ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کی اس پوسٹ کو ہٹانے کے بارے میں ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر مواصلات فہمی فاضل نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘میٹا’ سے اس بارے میں پوچھا گیا ہے کہ پوسٹ کس طرح ہٹائی گئی۔

تاہم ابھی اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے کہ یہ پوسٹ کس طرح ہٹ گئی۔خیال رہے کہ میٹانے حماس کو خطرناک تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس لیے حماس سے متعلق ایسے مواد پر پابندی لگا رکھی ہے جس میں اس کی تعریف کی گئی ہو۔اس کے لیے میٹا نے ایک نیم خود کار نظام بنا رکھا ہے جو حماس کے بارے میں پوسٹوں کو ہٹا دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button