انتہا پسند مذہبی یہودیوں کا فوجی اڈے میں گھس کر شدید احتجاج
اسرائیلی فوج نے مذہبی یہودیوں کی طرف سے اس حملے کی مذمت کی
مقبوضہ بیت المقدس ، ۷؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل میں یہودی مذہب کی تعلیم اور فروغ کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے والے انتہا پسند یہودیوں نے فوج میں لازمی خدمات دینے کے حالیہ حکم نامے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے فوجی اڈے پر چڑھائی کر دی۔مذہب پسند بنیاد پرست یہودی درجنوں کی تعداد میں تھے۔ جو تل ابیب کے نزدیک زبردستی ایک فوجی اڈے پر چڑھ دوڑے۔ان یہودیوں کا فوجی اڈا پر احتجاجی حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج ممکنہ ایرانی میزائل حملے کی وجہ سے تیاریوں میں مصروف ہے اور کسی بھی وقت ایران سے حملے کے خوف کی وجہ سے اسرائیلی عوام بھی پریشان ہے۔دس ماہ سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے اسرائیلی حکومت نے ریزرو فوجیوں کو لاکھوں کی تعداد میں بلا لیا تھا۔
اس دوران ایک پرانا لٹکا ہوا مقدمہ جب عدالت کے سامنے آیا تو اس نے ماہ جون میں مذہبی یہودہوں کے لیے بھی فوجی خدمات کو لازمی قرار دیتے ہوئے ان کے لیے جاری استثناء ختم کرنے کا اعلان کیا۔بعد ازاں وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے بھی اسرائیل کی سلامتی کو درپیش مسائل کے پیش نظر یہی موقف اختیار کیا کہ مذہبی یہودیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور امتیازی سلوک کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ بعدازاں اسرائیلی فوج نے پہلے مرحلے پر دو ہفتے پہلے ایک ہزار مذہبی یہودیوں کو فوج میں لازمی بھرتی کے لیے طلب کیا تھا۔تاہم مذہبی یہودی اب بھی سمجھتے ہیں کہ لڑنے کے لیے دوسروں کو ہی آگے آنا چاہیے اور مذہبی لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اپنے اسی موقف کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے فوجی اڈے تل ہاشومر پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے مذہبی یہودیوں کی طرف سے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ تاہم پولیس نے کچھ دیر کے بعد فوجی اڈے سے ان یہودیوں کو نکال باہر کیا۔اس واقعے پر فوج کی طرف سے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پر تشدد رویہ قابل مذمت ہے اور یہ سنگین جارحیت کا ارتکاب قانون کے خلاف ہے۔ ایسا احتجاج کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔اسرائیلی پولیس نے اس واقعے کے بارے میں ویڈیو فوٹیجز جاری کی ہیں۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے یہ مذہبی یہودی روایتی سیاہ لباس اور سروں پر ہیٹ رکھے ہوئے پولیس سے ہاتھا پائی کر رہے ہیں۔



