غزہ میں فائر بندی سے متعلق بات چیت میں باعث اختلاف اہم نکات
حماس ایک ایسے سمجھوتے تک پہنچنا چاہتی ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کی ضمانت دے۔
دبئی، 20اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے مصر، قطر اور امریکہ کے توسط سے بات چیت رواں ہفتے قاہرہ میں دوبارہ شروع ہو گی۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے دوحہ میں دو روزہ ملاقات منعقد ہوئی جس میں اسرائیل اور حماس کے بیچ خلیج کو پاٹنے پر توجہ مرکوز رہی۔بات چیت سے با خبر اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے بیچ ابھی تک بڑے اختلافات موجود ہیں۔حماس ایک ایسے سمجھوتے تک پہنچنا چاہتی ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کی ضمانت دے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مکمل فتح کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ سمجھوتے میں غزہ کی پٹی میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کا حق دیا جائے تا کہ حماس اسرائیلیوں کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ بننے سے عاجز ہو جائے۔حماس غزہ کی پٹی سے اسرائیل کا مکمل انخلا چاہتی ہے جس میں فلاڈلفیا یا صلاح الدین کی راہ داری شامل ہے۔یہ راہ داری مصر کے ساتھ سرحد پر جنوب میں پھیلی ہوئی 14.5 کلو میٹر طویل ایک تنگ پٹی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل فلاڈلفیا راہ داری پر کنٹرول باقی رکھنا چاہتا ہے جس پر اس نے مئی کے اواخر میں قبضہ کر لیا تھا۔ اسرائیل نے اس علاقے میں درجنوں سرنگیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق غزہ میں مسلح جماعتوں کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔اس مسئلے میں اسرائیلی قیادت کے اندر تقسیم رائے نظر آ رہی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ صرف سرحد پر اسرائیلی فورسز کی موجودگی ہی ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکے گی جب کہ دفاعی سیکٹر کے ذمے داران کا موقف ہے کہ دور رہ کر بھی سرحد کی نگرانی ممکن ہے، ضرورت پڑنے پر فوجی حملوں کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔اسرائیل چاہتا ہے کہ فائر بندی کے بعد بے گھر فلسطینیوں کی غزہ پٹی کے شمال میں واپسی کے موقع پر ان کی تلاشی لی جائے تا کہ ان کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق ہو سکے۔ تاہم حماس کا مطالبہ ہے کہ غزہ پٹی کے جنوب میں فرار پر مجبور کر دیے جانے والے فلسطینیوں کو نقل و حرکت کی آزادی دی جائے جو اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
تین مراحل پر مشتمل فائر بندی کے مجوزہ منصوبے میں پہلے مرحلے میں انسانی بنیادوں پر زندہ یا مردہ 33 قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں وہ زندہ قیدیوں کی تعداد میں اضافہ چاہتے ہیں۔حماس کے پاس شہریوں اور فوجیوں سمیت 115 قیدی باقی ہیں جن میں مرد، خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام غائبانہ طور پر ان میں سے ایک تہائی کی موت کا اعلان کر چکے ہیں۔حماس اور اسرائیل نے بات چیت میں جمود کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔ نیتن یاہو نے فائر بندی کے منصوبے میں نئے مطالبات داخل کرنے پر اندرونی و بیرونی تنقید کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہ مطالبات غزہ اور مصر کے درمیان سرحد اور واپس آنے والے فلسطینیوں کی تلاشی سے متعلق ہیں۔نیتن یاہو نئی شرائط عائد کرنے کی تردید کرتے ہیں۔ ان کہنا ہے کہ مطالبات اہم سیکورٹی امور سے متعلق ہیں جو اصل تجویز سے موافقت رکھتے ہیں۔ادھر حماس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی نئی تجاویز اسرائیلی مواقف کے انتہائی قریب ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کے مطابق حماس کا ہٹ دھرمی پر مبنی موقف ہی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے۔



