یحییٰ سنوار صرف خطوط کے ذریعہ رابطہ کرتے ہیں،مقام اور قیدی دو راز ہیں: رپورٹ
غزہ کی ایک سرنگ سے چھ یرغمالوں کی نعشیں بازیاب
مقبوضہ بیت المقدس،21اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی سے اندرونی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کیے گئے آپریشن کے دوران 6 قیدیوں کی نعشیں برآمد کی گئی ہیں تاہم اس نے اس آپریشن کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔اسرائیلی فوجی انجینئروں کو خان یونس میں 650 فٹ لمبی سرنگ میں گہری کھدائی کرنے میں کئی گھنٹے لگے تاکہ وہ جسے تلاش کر رہے تھے اسے نکال سکیں۔کھدائی کے دوران انہیں چار مردوں اور ایک خاتون کی نعشیں ملی تھیں، یہ سبھی اسرائیلی قیدی تھے جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو حراست میں لیا تھا۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب قیدیوں کی زندگی بچانے کی کارروائیاں انتہائی نایاب رہتی ہیں کیونکہ ان کے لیے مزید تفصیلی انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ درست معلومات نہ ملنے کے نتیجے میں بہت کچھ غلط ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 1,200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب قیدیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اب تک اسرائیل نے ان میں سے صرف 7 کو زندہ بچایا ہے۔دریں اثناء اسرائیلی سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ اگر جلد بازیاب کرانے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو مزید قیدی بھی نعشوں کی حالت میں واپس لوٹیں گے۔فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے ’حماس‘ کے بارے میں بھاری مقدار میں قیمتی ڈیٹا حاصل کیا،اس میں غزہ سے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دستاویزات شامل ہیں۔ ان کی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔امریکی مدد سے اسرائیل نے اپنی سگنل انٹیلی جنس کو مضبوط کیا۔ انسانی معلومات کا دائرکار بڑھا دیا۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی کوششوں میں بہتری آئی ہے، کیونکہ غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران پٹی کے اندر سے ملنے والے سیل فونز، کمپیوٹرز اور دستاویزات سے معلومات حاصل کی گئیں۔تاہم اس بہتری کے باوجود اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے عمل کو اب بھی چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ حماس اب بھی انٹیلی جنس سگنلز کو جمع کرنے سے بچنے کے لیے درست مواصلاتی طریقوں پر عمل کرہی ہے۔
عرب ثالثوں کے مطابق حماس کا لیڈر یحییٰ السنوار صرف ایک ایلچی کے ذریعے بھیجے گئے خطوط کے ذریعے ہی بات چیت کرتا ہے۔حماس کو شبہ ہے کہ اس کی صفوں میں کوئی جاسوس موجود ہے جس کے بعد اس نے رابطہ منقطع کر دیا، خاص طور پر مارچ میں حماس کے عسکری کمانڈر مروان عیسیٰ کے قتل کے بعد اس نے رابطوں کا طریقہ کار تبدیل کردیا تھا۔ایک اور رکاوٹ غزہ کی پٹی میں قیدیوں کا پھیلاؤ اور ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے تاکہ ان کے محل وقوع کا تعین زیادہ مشکل ہو۔ ایک سابق اسرائیلی قیدی نے انکشاف کیا کہ اسے 51 دن زمین کے اوپر اور نیچے 13 مختلف مقامات پررکھا گیا۔شاید حماس کے طریقے لبنان میں اس کی سب سے نمایاں اتحادی حزب اللہ سے بہت مختلف نہیں ہیں۔حماس رہنماؤں کے حالیہ کئی قتل کے بعد پارٹی نے سیل فونز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو میدان جنگ میں صارف کے مقام کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی جگہ رابطے کے پرانے ذرائع جیسے پیجرز اور میسنجر جو زبانی طور پر پیغامات پہنچاتے ہیں کا سہارا لیا جاتا ہے۔
غزہ کی ایک سرنگ سے چھ یرغمالوں کی نعشیں بازیاب
غزہ،21اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کو خان یونس کے علاقے میں جنگجوؤں سے ایک جھڑپ کے بعد ایک سرنگ سے چھ یرغمالوں کی نعشیں مل گئیں ہیں۔اس میں پانچ یرغمالوں کے متعلق اسرائیل فوج پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کر چکی تھی کہ وہ مر چکے ہیں۔یرغمال اور لاپتہ خاندانوں کے لیے کام کرنے والی ایک اسرائیلی تنظیم نے زور دیا ہے کہ بقیہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے جلد از جلد جنگ بندی کا معاہدہ کیا جائے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب بھی 105 یرغمال عسکریت پسندوں کی قید میں ہیں جن میں سے ممکنہ طور پر 34 مر چکے ہیں۔اسرائیل کی فوج نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس کی ایک سرنگ سے چھ اسرائیلی یرغمالوں کی لاشیں نکال لی ہیں۔ان میں سے پانچ یرغمالوں یاگیو بوچشتاب، الیکزینڈر ڈینسگی، یورام مٹزگر، نادیو پوپلول اور چائم پری کی ہلاکتوں کا اعلان پہلے ہی ہو چکا تھا جب کہ چھٹے یرغمال کا نام ایواہام موندر بتایا گیا ہے۔
فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جینس کے تجزیہ کے بعد پانچ یرغمالوں کے خاندانوں کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا کہ ان کے زندہ ہونے کا امکان بہت محدود ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یرغمالوں کی لاشیں پیر کی رات کو ایک سرنگ سے ملی ہیں۔فوج نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن کے دوران فورسز کو تقریباً 10 میٹر کی گہرائی میں ایک سرنگ کا داخلی راستہ دکھائی دیا جو زمین کی گہرائی میں واقع ایک سرنگ سے ملا ہوا تھا۔ یہ نعشیں اسی سرنگ سے ملی ہیں۔بیان کے مطابق اس علاقے میں کثیر منزلہ عمارتیں ہیں جہاں مسلح افراد نے دیر تک لڑائی کی جس میں کچھ جنگجو مارے گئے۔ جس کے بعد سرنگ تک رسائی حاصل ہوئی۔یرغمالوں اور لاپتہ خاندانوں کے لیے کام کرنے والے گروپ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نعشوں کی بازیابی سے ان خاندانوں کو قرار آ جائے گا جو ان کی واپسی اور تلاش کے لیے پریشان تھے۔ اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ انہیں ہمیشہ کے لیے کھو چکے ہیں۔اس گروپ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ بقیہ یرغمال مذاکرات کے ذریعے اسرائیل میں زندہ واپس آ سکیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ثالثوں کی مدد سے میز پر موجود معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کرے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر امریکہ، مصر اور قطر ثالثی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کر کے اسرائیلی جیلوں میں بند فسطینی قیدیوں کے بدلے بقیہ یرغمالوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔اس سے قبل منگل کے روز، غزہ کی سرحد کے قریب نیر اوز کی اسرائیلی کبوتز کمیونٹی نے ایک 79 سالہ یرغمالی موندر کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ میں قید کے دوران کئی مہنیوں سے جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کر رہے تھے۔فلسطینی عسکریت پسندتنظیم حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر دہشت گردانہ حملے کے دوران موندر، ان کی اہلیہ، بیٹی اور پوتے کو بھی اغوا کیا تھا۔



