بین الاقوامی خبریں

یمن میں بچے سے جنسی زیادتی کے مرتکب مجرم کو سنائی گئی سزائے موت

یمن میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔

دبئی،،۲۹؍اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یمن میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔ حوثی گروپ نے گزشتہ اتوار کو وسطی یمن میں البیضاء گورنری میں گروپ کی ایک جیل میں ایک بچے کے ساتھ کی جانے والی عصمت دری کا اعتراف کیا۔ حوثی گورنریٹ کی پولیس کی جانب سے ایک وضاحت کے مطابق، قیدی نے ایک بچے کو اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ وسطی یمن کے شہر البیضا میں اپنے قیدی بھائی سے ملنے کے لیے گیا ہوا تھا۔قیدی بچے کو جیل کی ایک خالی جگہ لے گیا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔بدھ 28 اگست کو رداع کی عدالت نے ملزم عبدالکریم احمد صلاح العمرانی کو موت کی سزا سنا دی۔

اسے رداع سنٹرل جیل میں بچے سے زیادتی کے جرم کا مرتکب پایا گیا ۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی کہ عدالت نے اس جرم میں ملزم کے خلاف اپنا فیصلہ جاری کیا۔ یہ رائے عامہ کا مسئلہ بن گیا تھا اور حوثی حکام کے لیے ایک بڑا سکینڈل بن گیا تھا۔ذرائع نے وضاحت کی کہ ردا کے قبائلی گروہوں نے سرکاری کمپلیکس کو گھیرے میں لے لیا۔ کمپلیکس میں پراسیکیوشن کی عمارتیں، مرکزی سکییورٹی، عدالت اور رداع اضلاع کی سیکیورٹی انتظامیہ کے دفاتر تھے۔

مقامی نیوز ویب سائٹ ’’المصدر آن لائن‘‘ کے مطابق عوامی دباؤ کے تحت حوثیوں کے زیر کنٹرول عدالت نے قبائل کے غصے کو جذب کرنے کے لیے اپنا فیصلہ فوری طور پر جاری کردیا۔گزشتہ رات حوثی حکام نے اعتراف کیا کہ عصمت دری کا واقعہ رداع کی مرکزی جیل میں پیش آیا تھا۔ گروپ نے کہا کہ وزارت داخلہ کے انسپکٹر جنرل کی طرف سے تفویض کردہ ایک کمیٹی نے رداع ڈسٹرکٹ اصلاحی مرکز میں تحقیقاتی طریقہ کار شروع کردیا ہے۔اس طرح کے واقعات حوثی گروپ کے زیر انتظام جیلوں اور سہولیاتی مراکز میں گزشتہ برسوں کے دوران دہرائے گئے ہیں۔ ان جرائم کے زیادہ تر مجرموں کو حوثی حکام کی جانب سے فوجی اور سکیورٹی تحفظ حاصل ہے۔ ان کے مرتکب اکثر سزا سے بچ جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button