بین الاقوامی خبریںسرورق

کابل میں خودکش بم دھماکے میں 6 افراد ہلاک 13 زخمی

اسلامک اسٹیٹ خراسان افغانستان میں سرگرم

کابل، 3ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) افغانستان میں 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد غیر ملکی افواج اور اسلام پسند باغیوں کے درمیان دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد سے تشدد میں کمی آئی ہے۔تاہم اسلامک اسٹیٹ خراسان افغانستان میں سرگرم ہے اور وہ تواتر سے شہریوں، غیر ملکیوں اور طالبان اہلکاروں کو حملوں کا نشانہ بناتی ہے۔افغان دارالحکومت میں پیر کو ایک خودکش بمبار نے جسم پر باندھے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا، جس میں پولیس نے بتایا ہے کہ چھ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کیاکہ آج سہ پہر، ایک شخص جس نے اپنے جسم پر دھماکہ خیز مواد باندھا ہوا تھا یہ دھماکہ کیا۔

ے ایف پی کے مطابق خالد زدران نے اطلاع دی ہے کہ ایک خاتون سمیت 6 شہری ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔یہ حملہ جنوبی کابل کے علاقے قلعہ بختیار میں ہوا اور زدران کے مطابق، تحقیقات جاری ہیں۔افغانستان میں 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد غیر ملکی افواج اور اسلام پسند باغیوں کے درمیان دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد سے تشدد میں کمی آئی ہے۔تاہم اسلامک اسٹیٹ کا علاقائی دھڑا، جسے اسلامک اسٹیٹ خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، افغانستان میں سرگرم ہے اور وہ تواتر سے شہریوں، غیر ملکیوں اور طالبان اہلکاروں کو اسلحے اور بم حملوں سے نشانہ بناتا ہے۔’ٌ

گزشتہ ماہ دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک عہدہدار نے خبردار کیا ہھا کہ اسلامک اسٹیٹ(داعش) گروپ کی افغانستان شاخ کی، جسے داعش خراسان کہا جاتا ہے، تنظیمی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے یورپ کے لیے بیرونی دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی سے متعلق انڈر سیکرٹری جنرل ولادی میر وورونکوف نے کہاکہ ’آئی ایس آئی ایل۔ کے‘ نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغانستان اور وسطی ایشیا کے علاقے میں اپنے لیے مدد بڑھا کر اپنی مالیاتی اور لاجسٹک صلاحیتوں میں اضافہ کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button