
غزہ جنگ: کوک، پیپسی بائیکاٹ سے پاکستان اور دیگر ملکوں میں مقامی برانڈز کا فروغ
دنیا بھر میں موجود سوفٹ ڈرنکس کے یہ دونوں برانڈ امریکہ اور اسرائیل کی علامت ہیں
اسلام آباد ، 5ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کوکا کولا اور اس کی حریف کمپنی، پیپسی کولا نے اپنے سوفٹ ڈرنکس کی مانگ کو مصر اور پاکستان سمیت، مسلم اکثریتی ملکوں میں بڑھانے کے لیے کئی دہائیوں میں لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔اب دونوں کمپنیوں کو غزہ میں جنگ کے دوران، ان ملکوں میں صارفین کی جانب سے اس بنا پر بائیکاٹ کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا ہیکہ دنیا بھر میں موجود سوفٹ ڈرنکس کے یہ دونوں برانڈ امریکہ اور اسرائیل کی علامت ہیں۔مصر میں اس سال کوک کی فروخت ختم ہو گئی جب کہ اس کا مقامی مشروب وی سیون اپ مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں گزشتہ سال کی نسبت اس سال تین گنا زیادہ ایکسپورٹ ہوا۔ بنگلہ دیش میں لوگوں کے ہنگاموں کی وجہ سے کوکا کولا کو بائیکاٹ کے خلاف اپنی ایک اشتہاری مہم کو منسوخ کرنا پڑا۔اور اکتوبر میں غزہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں پیپسی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ ختم ہو گئی۔
پاکستان میں ایک کمپنی کی ایگزیکیٹیو سنبل حسان نے کراچی میں اپریل میں اپنی شادی کے مینیو میں کوک اور پیپسی کو شامل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کا پیسہ اسرائیل کے پکے اتحادی، امریکہ کے ٹیکس فنڈز تک پہنچے۔سنبل حسان نے کہا کہ بائیکاٹ کے ذریعے کوئی بھی ان فنڈز میں اپنا حصہ نہ ڈال کر ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔ انکی شادی پر مہمانوں کو پاکستانی برانڈکولا نیکسٹ پیش کیاگیا۔مارکیٹ ریسرچر نیلسن آئی کیو کہتے ہیں کہ اگرچہ پیپسی کولا اور کوکا کولا کا مشرق وسطیٰ کے متعدد ملکوں میں بزنس بدستور بڑھ رہا ہے تاہم پورے مشرق وسطیٰ میں مغربی مشروبات کے برانڈز کی فروخت میں اس سال کے پہلے نصف حصے میں سات فیصد کمی ہوئی۔
پاکستان میں ڈیلیوری کی ایک ممتاز ایپ کریو مارٹ کے فاؤنڈرقاسم شیراف نے اس ماہ رائٹرز کو بتایا کہ مقامی کولا کے حریفوں، مثلاً کولا نیکسٹ اور پاکولا کی مقبولیت میں سوفٹ ڈرنک کی کیٹیگری میں لگ بھگ 12 فیصد اضافہ ہو ا بائیکاٹ سے پہلے یہ شرح 2.5 فیصد کے قریب تھی۔پیپسی کولا کے سی ای او، ریمن لگوارتا نے11 جولائی کو رائٹرز کو ایک انٹر ویو میں کہا کہ کچھ صارفین اپنی خریداری میں سیاسی نظریات کی بنیاد پر مختلف فیصلے کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ اس طرح کے بائیکاٹ لبنان، پاکستان اور مصر جیسے ملکوں میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔
آمدنی کے جاری کردہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2023 میں افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پیپسی کولا کے کل محصولات 6 ارب ڈالر تھے۔ کوکا کولا کی فائلنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی سال مشرق وسطیٰ اور افریقی خطے میں ا س کی کمپنی کے محصولات 8 ارب ڈالر تھے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد کی ششماہی میں پیپسی کولا بیورجیز کا حجم افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں بمشکل بڑھا، جب کہ سال 2022/2023 میں انہی چھ ماہ کے دوران اس میں 8 فیصد اور 15 فیصد اضافہ ہوا تھا۔



