بین الاقوامی خبریں

شمالی کوریا :سیلاب کے ذمہ دار 30 اہلکاروں کو صدر نے سنائی سزائے موت

میڈیا کے مطابق یہ اہلکار تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے میں ناکام رہے تھے

پیانگ یانگ ، 5ستمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)شمالی کوریا کے آمر کم جونگ اُن نے موسم گرما میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کم از کم 30 سرکاری اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا، اس کا انکشاف ٹی وی چوسن سمیت جنوبی کوریا کے میڈیا نے کیا ہے۔میڈیا کے مطابق یہ اہلکار تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے میں ناکام رہے تھے جس میں موسم گرما کے آغاز میں 4,000 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے تھے۔چوسن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ، گذشتہ جولائی میں ایک دن، 42 سالہ صدر نے چین کی سرحد پر دریائے یالو میں جاری سیلاب کے بعد اس کا معائنہ کیا اور ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران چگانگ صوبے کے گورنر، پولیس چیف، پارٹی سیکرٹری کانگ بونگ-ہون اور عوامی تحفظ کے وزیر سمیت متعدد کو برطرف کر کے سخت سزا دینے کا وعدہ کیا۔

میڈیا نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ بعض اہلکاروں کی سزائے موت پچھلے مہینے کے آخر میں ہوئی تھی۔گذشتہ جولائی میں، کم جونگ اُن نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا معائنہ کیا اور متاثرہ افراد کے ساتھ بات چیت کی، انہوں نے کہا کہ ڈوبے ہوئے علاقوں کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مہینوں لگیں گے، اس وقت کورین سینٹرل ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ انہوں نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو سخت سزا دی جائے جنہوں نے ناقابل قبول نقصان پہنچایا۔اخبار نے کہا کہ دریائے یالو کے تباہ کن سیلاب کے ساتھ ساتھ چین اور شمالی کوریا کی سرحد پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4000 سے زائد عمارتیں اور 3000 ہیکٹر زرعی اراضی زیر آب آگئی، تاہم پھانسی پانے والے تمام اہلکاروں کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button