بین الاقوامی خبریں

حزب اللہ کی طرف سے فائر بندی کی دعوت ضربِ کاری لگنے کی نشانی: امریکہ

حزب اللہ کی طرف سے فائر بندی کی دعوت ضربِ کاری لگنے کی نشانی: امریکہ
واشنگٹن،9اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو میلر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے فائر بندی کی دعوت اس بات کا مظہر ہے کہ تنظیم نے دفاعی موقف اپنا لیا ہے اور وہ کاری ضربوں کا سامنا کر رہی ہے۔حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے منگل کے روز ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کی صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ تنظیم کے جنگجو اسرائیلی فوج کی زمینی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مزاحمت میں مصروف ہیں۔ قاسم نے مزید کہا کہ حزب اللہ فائر بندی کے لیے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھو میلر نے منگل کے روز پریس بریفنگ میں تبصرہ کیا کہ پوری دنیا ایک سال تک اس فائر بندی کی اپیل کرتی رہی تاہم حزب اللہ اس پر آمادگی سے انکار کر رہی تھی اور اب جب کہ حزب اللہ دفاعی حالت میں آ گئی ہے اور کاری ضربوں کا نشانہ بن رہی ہے تو اس نے اچانک اپنا موقف بدل لیا اور وہ فائر بندی چاہتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اب بھی آخرکار اس تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ حزب اللہ کی قیادت کی جانب سے اب لبنان میں فائر بندی کے لیے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی نافذ کرنے کی شرط باقی نہیں رہی۔ اس سے قبل تنظیم کی قیادت مسلسل یہ باور کراتی رہی ہے کہ سرحد پار لڑائی کی کارروائی اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ ختم نہیں کر دیتا۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے ایک روز حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کا آغاز کیا تھا۔لبنانی حکومت کے ایک ذمے دار نے نام نشر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ حزب اللہ نے متعدد دباؤ کے سبب اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے۔ ان میں مرکزی انتخابی حلقوں سے اجتماعی نقل مکانی شامل ہے جیسا کہ حزب اللہ کے حمایتی افراد جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں رہتے ہیں۔ ذمے دار کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے اسرائیل کی جانب سے زمینی آپریشن تیز کر دینے اور لبنانی سیاست کے بعض فریقوں کی جانب سے حزب اللہ کے موقف پر اعتراض جیسے عوامل بھی کار فرما ہیں۔لبنان کے سیاسی منظر نامے کی بڑی شخصیات نے گذشتہ دنوں میں زور دیا تھا کہ لڑائی ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا جائے اور لبنان کے مستقبل کو غزہ کی جنگ سے مربوط نہیں کیا جائے۔ایک سینئر مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس وقت فائر بندی کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا۔ مزید یہ کہ لبنانی ذمے داران جس موقف کا اظہار کر رہے ہیں وہ ان کے سابقہ موقف میں سامنے آنے والی تبدیلی ہے۔ واضح رہے کہ سابقہ موقف میں سختی سے غزہ میں فائر بندی پر توجہ مرکوز تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button