بین ریاستی خبریں

سپریم کورٹ میں اپیل منظور ہونے سے پہلے ہی 108 سال کے بزرگ کی موت، 1968 سے چل رہا تھاکیس

نئی دہلی، 22 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک معاملے میں سپریم کورٹ کے درخواست قبول کرنے سے پہلے بزرگ کی موت ہوگئی۔ یہ 108 سالہ اب یہ جاننے کے لئے زندہ نہیں ہے کہ #سپریم کورٹ نے زمین کے تنازعہ کے معاملے میں ان کی اپیل قبول کرلی ہے۔ یہ #کیس 1968 سے چل رہا تھا اور خارج ہونے سے پہلے 27 سال تک #بمبئی ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔

سوپن نرسنگ گایکواڑ نامی اس شخص کے #وکیل نے دلیل دی کہ اپیل دائر کرنے میں تاخیر کو اس نقطہ نظر سے دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ درخواست گزار کا تعلق مہاراشٹر کے ایک دیہی علاقے سے ہے اور ہائی کورٹ کے فیصلے کا بعد میں پتہ چلا اور پھر کوڈ 19 وبا کی وجہ سے وہ پھنس گیا ۔ سپریم کورٹ نے 12 جولائی کو اپیل کی سماعت پر اتفاق کیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل ویراج قدم کے مطابق بدقسمتی سے وہ شخص جو اپنا مقدمہ ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ لے گیا، وہ یہ سننے کے لئے زندہ نہیں تھا کہ سپریم کورٹ اس کے کیس کی سماعت پر راضی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان کی موت 12 جولائی کو عدالت کی رضامندی سے قبل ہوئی تھی، لیکن ان کی موت کی اطلاع دیہی علاقوں سے سماعت کے بعد ہی ملی۔ اب سماعت ان کے قانونی ورثاء کے ذریعہ کی جائے گی۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ہریشکیش رائے کی بنچ نے 23 اکتوبر 2015 اور 13 فروری 2019 کے ہائی کورٹ کے احکامات کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے میں 1467 دن اور 267 دن کی تاخیر کومعاف کرنے کی #درخواست پر نوٹس جاری کیاہے۔

سپریم کورٹ نے آٹھ ہفتوں میں دوسرے فریق سے بھی جواب مانگاہے۔جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ ہمیں اس حقیقت کو نوٹ کرنا ہوگا کہ درخواست گزار کی عمر 108 سال ہے اور مزید برآں ہائی کورٹ نے اس کیس کی خوبیوں پر غور نہیں کیا تھا اور وکلاء کی عدم پیشی پر یہ کیس خارج کردیا گیا تھا۔ دراصل سوپن نارسنگ گایکواڑ نے 1968 میں ایک رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے ایک پلاٹ خریدا تھا۔

بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ اس کے اصل مالک نے لون کے لئے اسے بینک میں گروی رکھا تھا۔ اصل مالک لون ادا کرنے میں ناکام ہونے کے بعد بینک نے پراپرٹی کوضبط کرنے کے لئے گایکواڑ کو نوٹس جاری کیا۔گائیکواڈ اصل مالک اور بینک کے خلاف ٹرائل کورٹ چلاگیا۔ ٹرائل کورٹ نے 10 ستمبر 1982 کو ان کے حق میں ایک حکم پاس کیا۔

اصل مالک نے پہلی اپیل کی اور 1987 میں اس فرمان کوالٹ دیاگیا۔ اس کے بعد گایکواڑ نے 1988 میں ایک دوسری اپیل میں ہائی کورٹ کا رخ کیا، جسے 2015 میں خارج کردیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button