
27سالہ اسکول ٹیچر اپنے ہی 15 سالہ شاگرد کے ساتھ فرار ‘ دونوں کا پتہ چلالیا گیا
نواحی علاقہ چندا نگر میں افسوسناک واقعہ ۔ کونسلنگ کے بعد دونوں کو رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا
تلنگانہ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جدید و عصری ٹکنالوجی ترقی پسندی کے اس دور میں ہم اس قدر گم ہوگئے ہیں کہ اب سماج میں رشتوں کا لحاظ ہی نہیں رہا۔ والدین کے بعد مقدس رشتوں میں اساتذہ کا مقام آتا ہے۔ درس و تدریس ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کو قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد کی ڈانٹ ڈپٹ کو نصیحت اور مارپیٹ کو تربیت تصور کرنے کے دور سے شاید ہم دور ہوچکے ہیں۔ عصری ٹکنالوجی کے اس دور میں ترقی کی فکر اور بھاگ دوڑ نے شاید ان احساسات کو خود اپنے ہی قدموں تلے ہم نے روند دیا ہے۔ درس و تدریس کے اس معتبر اور مقدس رشتہ کو داغدار بنانے والا ایک ایسا ہی واقعہ شہر کے نواحی علاقہ میں پیش آیا، جہاں 27 سالہ خاتون اسکول ٹیچر 15 سالہ 10 ویں جماعت کے لڑکے کے ساتھ فرار ہوگئی ۔ ٹیچر اور طالب علم کے اس رشتہ کو شاید ہوس اور نفسانی خواہش نے گندہ کردیا۔
ٹیچر اپنے ہی اسکول کے طالب علم کے ساتھ فرار ہوگئی۔ تاخیر سے منظر عام پر آئے اس واقعہ نے سارے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مقدس پیشہ کو شرمسار کرنے والی خاتون ٹیچر کو بالآخر کم عمر طالب علم کے ساتھ پکڑ لیا گیا۔ تاہم چونکادینے والے حقائق منظر عام پر آئے۔ اسکول انتظامیہ اور خاتون کے رشتہ داروں کی درخواست اور التجا پر اسکول اور خاتون ٹیچر کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا گیا حالانکہ اس واقعہ کو راز میں رکھنے کی ہر دو جانب سے ممکنہ کوشش کی گئی تھی۔ چندا نگر علاقہ سائبرآباد میں ہر واقعہ پیش آیا۔ چندا نگر میں واقع ایک خانگی اسکول میں 27 سالہ خاتون درس و تدریس کے مقدس پیشہ سے وابستہ تھی۔ اور اسی اسکول کی 10 ویں جماعت میں ایک 15 سالہ طالب علم زیرتعلیم تھا۔
17 فبروری کو خاتون اسکول سے یہ کہتے ہوئے چلی گئی کہ اس کی صحت ناساز ہے لیکن وہ گھر نہیں پہنچی۔ گھر جانے کے بجائے اسکول میں زیرتعلیم 10 ویں جماعت کے لڑکے کے ساتھ کہیں چلی گئی۔ جب دونوں اپنے گھر نہیں پہنچے تو اس کے متعلق دریافت شروع ہوئی۔ لڑکے کے والدین نے چندا نگر اور ٹیچر کے افراد خاندان نے گچی باؤلی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے دونوں شکایتوں کا الگ الگ جائزہ لیا اور تلاش شروع کردی۔ سیل فون ٹاور لوکیشن سے دونوں کو پکڑ لیا گیا اور یہ افسوسناک واقعہ منظر عام پر آگیا ۔ پولیس کی جانب سے دونوں کی کونسلنگ کی گئی اور انہیں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کردیا گیا۔



