
سعودی علاقے حائل میں 3.6 شدت کا زلزلہ، موسمیاتی سائنسدانوں نے کیا وجہ بتائی؟
28 جون بروز جمعہ دوپہر 12 بج کر 3 منٹ پر حائل کے علاقے الشنان کے مشرق میں زلزلہ ریکارڈ کیا۔
ریاض، 29جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سعودی عرب میں نیشنل سیسمک مانیٹرنگ نیٹ ورک کے اسٹیشنوں نے 28 جون بروز جمعہ دوپہر 12 بج کر 3 منٹ پر حائل کے علاقے الشنان کے مشرق میں زلزلہ ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد سعودی عرب میں موسمیاتی ماہرین نے اس زلزلے کی وضاحت پیش کی اور زور دیا کہ اس طرح کے محسوس کیے گئے زلزلوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے تاہم یہ زلزلے انسانوں یا انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔آب و ہوا کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے ایکس پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے انکشاف کیا کہ حائل کے علاقے میں ہلکے اور ٹھوس زلزلے، خاص طور پر حائل کے جنوب مغرب میں، نسبتاً طویل عرصے کے وقفے سے بار بار آنے والے سینکڑوں کی تعداد میں واقعات ہیں۔ حائل کے علاقے کی زمین پر موجود آتش فشاں بہت پرانا ہے اور یہ ایک دھماکے کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو تقریباً 1000 سال پہلے حرہ بنی رشید میں ہوا تھا۔ حرہ بنی رشید حائل سے 160 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ڈاکٹر عبد اللہ المسند نے کہا کہ عام طور پر یہ زلزلے کمزور ہوتے ہیں اور ان سے انسانوں یا انفراسٹرکچر کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
اس خطے میں بہت سے زلزلے آتے ہیں لیکن وہ غیر محسوس ہوتے ہیں اور ان کی شدت ریکٹر سکیل پر 3 ڈگری سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ الشویمس اور ضرغط اور اطراف کے علاقے میں زیادہ کثرت سے آتے ہیں۔ارضیاتی طور پر سعودی عرب کا مرکزی علاقہ مملکت میں سب سے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں زلزلے کی سرگرمیاں کمزور ہیں۔ انہوں نے زلزلے کے معیارات کو تقسیم کیا اور بتایا کہ ریکٹر سکیل پر 3.5 ڈگری کے زلزلے کو ہم بمشکل محسوس کر سکتے ہیں۔ 4.3 ڈگری کے زلرلے کو پیدل چلنے والے محسوس کر سکتے ہیں۔ 4.8 شدت کا زلزلہ کچھ سونے والوں کو جگا دیتا ہے۔
5.4 کی شدت پر درخت جھومتے اور چیزیں گر جاتی ہیں۔ 6.1 کی شدت پر کچھ دیواروں میں شگاف پڑ جاتے ہیں 6.9 کی شدت میں کچھ مکانات گر جاتیہیں۔ زلزلہ کی شدت 7.3 ڈگری تک آئے تو زمین میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ 8.1 کی شدت میں مضبوط عمارتیں باقی رہتی ہیں اور 8.9 ڈگری کے زلزلے سے تمام عمارتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔دریں اثنا،ماہر فلکیات کے محقق خالد الزعاق نے جمعہ کے روز حائل میں آنے والے زلزلے پر تبصرہ کیا کہ اس زلزلہ کی شدت 3.6 تھی۔ یہ زلزلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جھٹکا ہے اور یہ جھٹکے قدرتی ہوتے ہیں اور ہر سیکنڈ پیدا ہوتے ہیں۔



