دلچسپ خبریںسرورق

گورکھپور :70 سالہ سسر نے 28 سالہ بہو سے شادی کر لی،

جس شخص کی شادی ہوئی ہے وہ برہل گنج تھانے کا چوکیدار ہے۔ اس نے اپنی بہو کے ساتھ سات چکر لگائے اور اسے اپنی بیوی بنا لیا۔

اتر پردیش گورکھپور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسے محبت کہیں، مجبوری یا کچھ اور، ایک بزرگ نے معاشرے کی پرواہ کیے بغیر اپنی بہو سے شادی کر لی۔ یہ انوکھا معاملہ اتر پردیش کے ضلع گورکھپور سے سامنے آیا ہے۔د ونوں نے ایک دوسرے کے گلے میں مالا ڈال کر اور خدا کو گواہ مان کر مقامی مندر میں شادی کی۔ بہو کو بیوی تسلیم کرتے ہوئے سسر نے اس کی مانگ میں سندور بھی بھر دیا۔ اس شادی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس واقعے پر ہر طرح کے چرچے ہو رہے ہیں اور شادی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ اگرچہ اردودنیا نیوز وائرل تصویر کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔ جس شخص کی شادی ہوئی ہے وہ برہل گنج تھانے کا چوکیدار ہے۔ اس نے اپنی بہو کے ساتھ سات چکر لگائے اور اسے اپنی بیوی بنا لیا۔

مقامی تھانہ علاقہ کے چھپیا عمراؤ گاؤں کے رہنے والے کیلاش یادو کی عمر 70 سال ہے۔ پوجا کی عمر 28 سال ہے۔ کیلاش کی بیوی کا انتقال 12 سال قبل ہوا تھا۔ اسی دوران ان کا تیسرا بیٹا بھی چند سال قبل انتقال کر گیا تھا۔سوشل میڈیا کی خبروں کےمطابق سسر کیلاش یادو کے چار بچے ہیں اور تیسرے بیٹے یعنی بہو پوجا کے شوہر کی موت ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں نے باہمی رضامندی سے شادی کی ہے اور پوجا اپنے نئے رشتے سے خوش ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کیلاش یادو بدھل گنج کوتوالی علاقہ کے چھپیا عمراؤ گاؤں کا رہنے والا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برہل گنج تھانے کے چوکیدار کیلاش یادو نے اپنی بہو پوجا کے ساتھ سات چکر لگائے اور اس موقع پر گاؤں والوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ اس شادی کو لے کر پورے علاقے میں چرچے ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پوجا اپنے شوہر کی موت کے بعد اکیلی تھی۔ اس کی شادی کسی اور سے ہوئی تھی لیکن اسے وہ خاندان پسند نہیں آیا اس لیے وہ اپنے شوہر کے گھر واپس آگئی یہاں اس نے اپنے سسر سے شادی کے لیے رضامندی ظاہر کی اور یہ شادی معاشرے کی پرواہ کیے بغیر ہوئی۔اس وقت بوڑھے سے شادی کرنے والی بہو سات چکر لگانے کے بعد اپنے سسرال کے ساتھ گھر میں خوشی سے رہ رہی ہے۔

دونوں شادی کے بعد گھر پہنچ گئے لیکن کسی کے سوال کا کوئی جواب نہیں دے رہے۔ اس وقت عمر کے اس مرحلے میں بہو سے شادی کے حوالے سے جو بھی بحث چل رہی ہے اس میں مثبت اور منفی دونوں چیزیں سامنے آرہی ہیں۔ گاؤں میں اس شادی کو جائز قرار دینے والوں کی تعداد کم ہے۔گاؤں میں چرچا ہے کہ سسر کو بہو کی شادی کسی اور سے کرانی چاہیے تھی۔ اگر وہ کسی اور جگہ آباد ہونا چاہتی تھی، لیکن جس عمر میں اس نے بہو کو اپنی بیوی بنا لیا ہے، یہ مناسب نہیں۔ لیکن اس کے لیے کہیں نہ کہیں دونوں راضی ہو گئے ہوں گے تبھی بات شادی تک پہنچی ہے۔

فی الحال ان کی شادی کی تصویر وائرل ہو رہی ہے اور اس پر اختلاف رائے ہو رہا ہے۔اگر بہو سے اتنی ہی محبت ہے تو وہ اسکی عمر کے مطابق دوسرا دولہا تلاش کر کے اس سے شادی کر تے لیکن بہت سے لوگ غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایک بزرگ کو اس عمر میں شادی کی کیا ضرورت ہے۔ دوسرے یہ کہتے ہوئے ان کی شادی کی حمایت کر رہے ہیں کہ ان دونوں کو بڑے فیصلے کرنے کا حق ہے۔

برہل گنج تھانے کے چوکیدار کیلاش یادو کی شادی کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے گاؤں او پولیس ر تھانے تک پہنچ گئی۔ اسٹیشن انچارج برہل گنج نے بتایا کہ ہمیں اس شادی کے بارے میں وائرل ہونے والی تصویر سے ہی پتہ چلا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو لوگوں کا باہمی معاملہ ہے،اور پولیس تب تک کوئی کاروائی نہیں کریگی جب تک کے کوئی شکایت درج نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button