سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

کرکٹ شائقین کی آواز پر چھکے مارنے والابلے باز✍️سلام بن عثمان

بھارتی کرکٹ ٹیم کا پہلا ارجن ایوارڈ یافتہ کھلاڑی

کرکٹ کے بدلتے دور میں کئی کھلاڑیوں نے #ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنائی۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنے ملک ہندوستان کو بہترین #فتح بھی دلائی ساتھ ہی خود بھی مشہور ہوئے۔ جی ہاں کرکٹ کی تاریخ میں افغانستان کا ایک ایسا نوجوان بھی ہندوستان کی کرکٹ #ٹیم میں آیا اور اپنے ہنر سے ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں تاریخ رقم کی۔ جی ہاں سلیم دررانی بھی ان میں سے ایک ایسے ذمہ دار کرکٹ کھلاڑی تھے۔ سلیم دررانی جب #ٹیسٹ #میچ کھیلنے میدان پر اترتے تو اسٹیڈیم کے ہر کونے سے تالیوں کی گونج سنائی دیتی تھی۔ سلیم دررانی اپنے کھیل سے کرکٹ شائقین کا دل جیت لیتے۔ جب کبھی #چھکہ مارنے کی فرمائش ہوتی تو #سلیم دررانی فوراً اپنے بلے سے چھکہ لگاتے اور اسی جگہ چھکہ مارتے #اسٹیڈیم کے جس اسٹینڈ سے فرمائش کی جاتی تھی۔

سلیم عزیز دررانی 11 دسمبر 1934 کو #افغانستان کے شہر کابل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھی بہت اچھے کرکٹر تھے۔ کرکٹ میں اس وقت عزیز دررانی کی طوطی بولتی تھی۔ آزادی کے بعد تقسیم ہند کے وقت والد عزیز دررانی پاکستان چلے گئے۔ پاکستان جاتے وقت اپنے کرکٹ کے نسخے کو بھی ساتھ لے گئے۔ انھوں نے اپنے کرکٹ کے نسخے کو پاکستان میں استعمال کیا۔ جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں عزیز ماسٹر کے نام سے مشہور ہوئے۔

انھوں نے کئی پاکستانی کھلاڑیوں کو تیار کیا جن میں پاکستان کے مشہور آف اسپنر حنیف محمد کو بھی عزیز دررانی نے گیند بازی سکھائی۔ 1961 میں پاکستان کے خلاف کلکتہ ٹیسٹ میچ کے دوران عزیز دررانی کلکتہ آئے ہوئے تھے۔ سلیم دررانی برسوں بعد والد سے ملے۔ اس کے بعد والد سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ ہندوستان میں عزیز دررانی اتنے مشہور نہیں تھے۔ انھوں نے بھی ٹیم انڈیا کے لئے ایک دو میچ کھیلے۔ مگر کرکٹ بہت اچھا کھیلتے تھے۔

سلیم دررانی جب پیدا ہوئے تو عزیز دررانی نے ٹیسٹ میچ کی گیند کو سلیم کے آنکھوں کے سامنے گھماتے ہوئے کہا تھا۔ "میرے گھر ٹیسٹ کھلاڑی پیدا ہوا ہے۔” اللہ نے اپنے بندے کی آواز کو سنا اور اللہ نے عزیز دررانی کی دلی تمنا کو پورا کیا۔ سلیم دررانی ہندوستانی ٹیم کے مشہور آل راؤنڈر بنے۔ بائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز اور دھیمی اور تیز آف اسپین دونوں طرح کے گیند بازی کرتے تھے۔ انھوں نے بہترین بلے بازی کے ساتھ بہترین گیند بازی بھی کی۔

جس کی وجہ سے ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کو فتح دلانے میں کامیاب رہے۔ سلیم دررانی کا اپنا ایک الگ انداز تھا۔ جب بھی وہ میدان میں کھیلنے اترتے تو وہ اپنے شرٹ کے کالر کو کھڑا کر دیا کرتے تھے۔ نیلی آنکھوں والے سلیم دررانی نے ہندوستان کے لئے 29 ٹیسٹ میچ میں 50 اننگز کھیلتے ہوئے بہترین کھیل پیش کیا۔ یکم دسمبر 1960 کو ہندوستان کی طرف سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔

سلیم دررانی کے اچھے کھیل کے باوجود بھی ان کو کئی مرتبہ ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے سیریز کی ہار سے ٹیم انڈیا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ 1971 میں سلیم دررانی کو ویسٹ انڈیز کے دورہ کے لئے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ پہلا ٹیسٹ ڈرا ہو چکا تھا۔ اس وقت دلیپ سر دیسائی ٹیسٹ میچ میں چھائے ہوئے تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز ٹیم کے مضبوط بلے باز کلائیو لائیڈ اور گیری سوبرس زبردست کھیل پیش کر رہے تھے۔

انھیں اس وقت آؤٹ کرنا بہت مشکل نظر آرہا تھا۔ ٹیم انڈیا کے رکن ایم ایل جے سمہا نے اجیت واڈیکر کو مشورہ دیا کہ گیند بازی سلیم دررانی سے کرائی جائے۔ جیسے ہی سلیم دررانی نے گیند لی اور اپنے تجربہ کا استعمال کرتے ہوئے گیند کلائیو لائیڈ کو پھینکی اسے لائیڈ نے کھیلا اور کھیلتے ہی گیند مڈ وکٹ پر کھڑے اجیت واڈیکر نے کیچ کیا۔ اس کے بعد دوسرے ہی گیند میں گیری سوبرس کو آؤٹ سائڈ دی آف اسٹمپ پر گیند پھینکا اور تیزی سے گیند گھومتی ہوئی لیک اسٹمپ کو اکھاڑ دیا۔

سلیم دررانی نے دو ہی گیند پر دو وکٹ لیا تھا۔ گیری سوبرس کو آؤٹ کرنے کے بعد سلیم دررانی اسی جگہ ایک منٹ تک اچھلتے رہے۔ سنیل گواسکر نے جب دیکھا تو ہنستے ہوئے ان کے پاس آئے اور کہا انکل کب تک اچھلتے رہو گے کھیل کو آگے بڑھانا ہے۔ سنیل گاوسکر سلیم دررانی کو انکل کہا کرتے تھے۔ اس ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کو سیریز میں فتح ملی۔ ٹیم انڈیا نے ایک صفر سے سیریز جیتا۔

ایک مرتبہ رنجی ٹرافی میچ کے دوران سلیم دررانی نے منصور علی خان پٹودی کو آؤٹ کیا تھا۔ میچ شروع ہی ہوا تھا۔ تیز گیند باز کیلاش گھٹانی نے اپنا پہلا اوور کیا اور دوسرے اوور کے لئے گیند لی۔ سلیم دررانی کیلاش کے پاس آئے اور کہا آپ فیلڈنگ کرو میں گیند بازی کرتا ہوں۔ کیلاش گھٹانی نے کیپٹن ہنومت سنگھ سے کہا یہ کیا ہے۔ نئی گیند ہے اور سلیم دررانی اسپنر گیند باز ہے۔ ہنومت سنگھ نے کہا آپ گیند سلیم کو دو کچھ بات ہے اس لئے انھوں نے بالنگ کے لئے کہا ہے۔

سلیم دررانی نے تین گیند آف اسٹمپ پر پھینکی، پٹودی نے بہت احتیاط سے اسے روکا کھیلنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ چوتھی گیند کو لیگ اسٹمپ پر پھینکا اور آف اسٹمپ اکھاڑ دیا۔ اس کے بعد جب نیا اوور شروع ہوا تو کیلاش گھٹانی نے سلیم دررانی کو آواز دی اور بالنگ کے لئے کہا تو سلیم دررانی نے کہا اب باقی کے کھلاڑی کو تم آؤٹ کرو۔

سری لنکا ٹیم 1971 میں ہندوستان آئی ہوئی تھی۔ آندھرا پردیش کے گنٹور شہر میں ٹیسٹ کھیلا جانے والا تھا۔ سلیم دررانی اور سنیل گواسکر ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ سردی کا وقت تھا۔ سلیم دررانی نے ٹرین کے ٹی سی سے کہہ کر کمبل تکیہ کے انتظام کر لیا تھا۔ سونے کا وقت جب قریب آیا تو سلیم دررانی نے دیکھا کہ گاوسکر سردی سے کانپ رہے ہیں۔ ان کے پاس کمبل بھی نہیں تھا۔

سلیم دررانی نے گاوسکر کو آواز دی اور کہا یہ کمبل لے لو میں ابھی نہیں سو رہا ہوں۔ گاوسکر جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ سلیم دررانی اپنے دونوں پیروں کو سینے سے لگائے ٹھنڈ میں کانپ رہے تھے۔ گاوسکر نے محسوس کیا اتنا بڑے ٹیسٹ کھلاڑی نے مجھے کمبل دیا اور خود بغیر کمبل کے سو گئے۔ اس وقت سے سنیل گواسکر سلیم دررانی کو انکل کہتے تھے۔

1973 میں ٹیم انگلینڈ ہندوستان کے دورہ پر تھی۔ اس وقت انگلینڈ کے مشہور اسپنر پیٹ پوکاک پارٹی میں کچھ لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی ہانک رہے تھے۔ دیکھتا ہو ٹیم انڈیا مجھے کیسا کھیلتی ہے۔ میں اس وقت کا زبردست آف اسپنر ہوں وغیرہ وغیرہ۔ کچھ ہی دوری پر سلیم دررانی کھڑے تھے اور پیٹ پوکاک کی باتیں سن رہے تھے۔ انھیں برداشت نہیں ہوا۔

سلیم دررانی پیٹ پوکاک کے پاس گئے اور کہا میری نظر میں تم آف سپنر ہو ہی نہیں۔ کل جب میدان پر آؤ گے تو تمہاری پہلی ہی گیند پر ایسٹ اسٹینڈ پر چھکہ مارونگا۔ دوسرے روز جب دونوں ٹیمیں میدان پر اتری تو انگلینڈ ٹیم کے کپتان ٹائی لوئنس تھے مگر کسی وجہ سے کیپٹن مائک ڈینس تھے۔ مائک ڈینس نے کہا کل کی بات یاد ہے۔ میری بات سنو ٹیسٹ میچ میں کوئی نہیں چھکہ مارتا۔ تم آف سائڈ آف اسٹمپ بالنگ کرنا۔

مڈ آف پر ایک کھلاڑی رکھا ہوں کیچ کے لئے۔ سلیم دررانی تیار تھے پیٹ پوکاک کو کھیلنے کے لئے سلیم دررانی کریز سے باہر نکلتے ہوئے میدان کےایسٹ اسٹینڈ پر وعدہ کے مطابق چھکہ مارا۔ پیٹ پوکاک کے پاس جا کر یہ بھی کہا کہ واقعی تم آف سپنر نہیں ہو۔ اسی جگہ میں نے چھکہ مارا ہے جہاں کہا تھا۔ سلیم دررانی چھکہ مارنے میں مشہور اور ماہر تھے۔ اسٹیڈیم میں وہیں چھکہ مارتے تھے جہاں سے آواز آتی تھی۔

بلے بازی کرتے وقت گیند پر نظر اور اسے پرکھنے میں ماہر تھے۔ جس کی وجہ سے وہ گیند کو خلاء میں اچھلنے کے ساتھ ہی چھکہ جمانے میں مشہور تھے۔ انگلینڈ کے ساتھ اسی ٹیسٹ سیریز میں کانپور ٹیسٹ کے لئے سلیم دررانی کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ پورے کانپور شہر میں جگہ جگہ بینر اور پوسٹر لگائے گئے سلیم دررانی نہیں تو ٹیسٹ میچ نہیں۔ کرکٹ بورڈ کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا اور کانپور ٹیسٹ کے لئے سلیم دررانی کی واپسی ہوئی۔

سلیم دررانی نے 1953 میں سوراشٹر ٹیم سے کرکٹ کھیلا۔ 56-1954 تک گجرات ٹیم کی طرف سے کھیلا۔ 1978-1957 تک راجستھان کرکٹ ٹیم سے کھیلا۔سلیم دررانی نے ہندوستان کی طرف سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ یکم دسمبر 1960 کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ آخری ٹیسٹ میچ 6 فروری 1973 کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ اپنے کرکٹ کے سفر میں سلیم دررانی نے 29 ٹیسٹ میچ میں 50 اننگز میں 1202 #رنز بنائے۔

جس میں ایک #سنچری اور سات نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین بلے بازی 107 رنز رہی۔ گیند بازی کرتے ہوئے 74 وکٹ لئے جس میں تین مرتبہ پانچ وکٹ اور ایک مرتبہ دس وکٹ لئے۔ گیند بازی میں بہترین کارکردگی رہی 73 رنز دے کر چھ وکٹ۔ اپنے کرکٹ کے سفر میں 14 کیچ بھی لئے۔سلیم دررانی نے اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ میں  170 میچ کھیلے 8545 رنز بنائے۔ جس میں 14 سنچریاں اور 45 نصف سنچریاں رہی۔ بلے بازی میں بہترین 137 رنز ناٹ آؤٹ۔ گیند بازی میں 484 وکٹ 21 مرتبہ پانچ وکٹ، اور دو مرتبہ دس وکٹ لئے۔ بہترین گیند بازی 99 رنز دے کر آٹھ وکٹ۔ 144 کیچ شامل ہیں۔

کرکٹ ٹیم انڈیا کے پہلے کھلاڑی سلیم دررانی ہے جنھیں 1961 میں "ارجن ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ سلیم دررانی اس وقت ویسٹ انڈیز کے دورہ پر تھے۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد کھیل کی مصروفیت میں بھول گئے۔ 47 سال بعد 2009 میں ان کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔ 2011 میں سی کے نائیڈو لائیف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سلیم دررانی نے اپنے کرکٹ کھیل کے ساتھ ساتھ فلموں میں ہاتھ آزمایا۔ بی آر اشارہ کی فلم چریترا میں پروین بابی کے مقابل ہیرو رہے۔ ٹیم انڈیا کے پہلے کھلاڑی کا شرف حاصل ہے جس نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سلیم دررانی کو ان کے #مداح انھیں ہمیشہ ان کے چھکہ مارنے کے انداز سے یاد رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button