گوشہ خواتین و اطفال

ام المومنین حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ کی مختصر سیرت

ازقلم : شیخ عائشہ امتیازعلی متعلمہ ! انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ

ابتدائی زندگی اور قبول اسلام

حضرت ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام زمعہ اور والدہ کا نام شموس بنت قیس تھا۔ آپ کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد حضرت سکران بن عمرو سے ہوا، جن سے ایک بیٹے عبدالرحمٰن کی ولادت ہوئی۔

نبی کریم ﷺ کی دعوت مکہ کے ہر گھر تک پہنچ رہی تھی، اسی دوران حضرت سودہؓ نے اسلام قبول کیا۔ مورخین کے مطابق آپ اپنے خاندان میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والی خاتون تھیں۔ اس وقت مکہ میں مسلمانوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا تھا، مگر آپؓ نے بہادری سے دین کو قبول کیا اور اپنے شوہر سمیت کئی افراد کو بھی اسلام کی طرف مائل کیا۔

آزمائش اور تبلیغ اسلام

اسلام کے ابتدائی زمانے میں قبول اسلام کسی بڑے امتحان سے کم نہ تھا۔ کفار مکہ جو بھی مسلمان ہوتا، اسے شدید اذیتیں دیتے۔ حضرت سودہؓ بھی ان مشکلات سے گزریں، مگر اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ خاموش نہ بیٹھیں، بلکہ تبلیغ اسلام میں سرگرم رہیں۔ آپ کی مؤثر دعوت سے متاثر ہوکر آپ کے شوہر بھی دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ آپ کی تبلیغی کوششوں سے کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔

ہجرت حبشہ

جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ ہجرت کی اجازت دی۔ پہلے قافلے میں 11 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں، مگر حضرت سودہؓ اور ان کے شوہر مکہ میں ہی رہے۔

بعد ازاں، نبوت کے چھٹے سال دوسرے قافلے میں 20 خواتین اور 83 مرد حبشہ ہجرت کر گئے۔ اس بار حضرت سودہؓ اور ان کے شوہر نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا، مگر قبیلے کے افراد نے روکنے کی پوری کوشش کی۔ اللہ کی مدد شامل حال ہوئی اور آپ اپنے شوہر سمیت حبشہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔

بیوگی اور نبی کریم ﷺ سے نکاح

حبشہ سے واپسی پر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور آپ بیوہ ہو گئیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی وصال ہو چکا تھا، جس سے نبی کریم ﷺ غمزدہ رہتے تھے۔

حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے آپؓ سے نبی کریم ﷺ کے نکاح کی تجویز رکھی، جسے آپؓ نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔ آپ کے والد زمعہ نے بھی نکاح کے پیغام کو منظور کیا، اور چار سو درہم مہر پر نبی کریم ﷺ سے آپ کا نکاح ہوا۔

مدینہ ہجرت اور ازدواجی زندگی

مدینہ ہجرت کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مسجد نبوی کے قریب بنایا گیا۔ آپ نہایت سنجیدہ، باوقار، ہمت والی، اور دین کی خدمت گزار خاتون تھیں۔ نبی کریم ﷺ کی چہیتی بیٹیوں کی پرورش میں آپ کا کردار نمایاں رہا۔

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد زندگی

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ کی زندگی عبادت، صدقہ، اور خیرات میں بسر ہوئی۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کے حکم کی مکمل پاسداری کی اور حجۃ الوداع کے بعد دوبارہ حج نہ کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button