لکھنؤ ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اردو کے مشہور #شاعر #منور #رانا پر نام نہاد #ہندو عقائد اور دلت طبقہ کے متعلق مبینہ طور پر #توہین آمیز #ریمارکس پرفسطائیوں کی طرف طوفان بپا ہے۔ اس معاملہ میں ایک ہندو تنظیم’سماجک سروکار فاؤنڈیشن ‘کے نائب صدر پی ایل بھارتی نے جمعہ کی سہ پہر حضرت گنج #پولیس #اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے جس پر شام دیر گئے #مقدمہ درج ہو گیا ہے۔
پولیس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔اے سی پی حضرت گنج راگھویندر مشرا کے مطابق جمعہ کی سہ پہرسماجک سروکارفاؤنڈیشن کے نائب صدر پی ایل بھارتی نے شکایت دی، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مشہور شاعر منور رانا نے ان کے عقیدے کے ’بھگوان‘ والمیکی کا موازنہ طالبان سے کیا ہے، یہ موازانہ ہندو عقیدے اورمبینہ طور پر دلتوں کی توہین ہے۔
#والمیکی نہ صرف رامائن کے تخلیق کار تھے ، بلکہ ہم ان کو اپنا سمجھ کراس کی پرستش بھی کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر منور رانا نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر بالمیکی رامائن کی تخلیق کردیتا ہے ، تو وہ دیوتا بن جاتاہے ، جب کہ وہ ماضی میں ایک لٹیرا ہوا کرتا تھا۔
منور رانا نے یہ بھی کہا کہ والمیکی ایک محض ادیب تھے، ہندو مذہب میں تو کسی کو بھی خدا تسلیم کرلیا جاتا ہے‘۔ پی ایم بھارتی کے مطابق منور رانا نے یہ تبصرہ کر کے ہندو مذہب پر حملہ نہیں کیا ،بلکہ دلت برادری ، والمیکی کے پیروکارکے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے ، اور والمیکی کی توہین کی ہے ۔
اے سی پی حضرت گنج راگھویندر مشرا کے مطابق منور رانا کیخلاف پی ایل بھارتی کی تحریر کی بنیاد پر مذہبی #جذبات بھڑکانے ،نقض امن کیخلاف اور ایس سی ایس ٹی کے تحت جرم کے ارتکاب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دیگر انتہاپسند ہندو جماعتوں اور ہندو مہاسبھا نے بھی شکایت کی ہے۔



