اودے نیدھی اور اے راجہ کیخلاف سپریم کورٹ میں عرضی، مقدمہ در ج کیا جائے
سناتن دھرم پر تبصرہ کے پاداش میں اے راجہ کیخلاف دہلی پولیس میں شکایت
نئی دہلی ، 7ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔ ڈی ایم کے ایم پی نے سناتن دھرم کا موازنہ ایچ آئی وی اور جذام جیسے موذی اور تباہ کن امراض سے کیا۔ جمعرات (7 ستمبر) کو اے راجہ کے خلاف دہلی پولیس کو شکایت دی گئی۔سماجی کارکن اور ایڈوکیٹ ونیت جندل نے یہ شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں انہوں نے سناتن دھرم کی توہین کرنے، مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔سابق مرکزی وزیر اے راجہ نے کہا تھاکہ سناتن دھرم ایک سماجی بیماری ہے۔ اودے نیدھی نے سناتن کا موازنہ ڈینگو، ملیریا سے کرتے ہوئے انکساری کا مظاہرہ کیا۔ اس کا موازنہ ایچ آئی وی اور جذام کی قسم کی بیماریوں سے کیا جانا چاہیے۔ یہ ان بیماریوں سے بھی بدتراور جان لیوا ہے۔
اے راجا نے ’سناتن دھر م‘ کو ایڈز اور جذام سے بھی مہلک مرض قرار دیا
عیاں رہے کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادے نیدھی اسٹالن نے حال ہی میں سناتن دھرم کو ملیریا اور ڈینگو جیسی بیماریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھاکہ سناتن دھرم لوگوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔ سناتن دھرم کو ختم کرنا انسانیت اور مساوات کو برقرار رکھنے کے مفاد میں ہوگا۔ادے ندھی اسٹالن کے اس تبصرے کے بعد بی جے پی سمیت کئی پارٹیوں نے ان پر تنقید کی ہے۔ وہیں ڈی ایم کے کی حلیف کانگریس نے ادے ندھی اسٹالن کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے جمعرات کو کہا کہ کانگریس سروادھرم سمبھاؤ میں یقین رکھتی ہے، جس میں کوئی بھی کسی خاص عقیدے کو کسی دوسرے عقیدے سے کم نہیں سمجھ سکتا۔ کانگریس ان میں سے کسی بھی تبصرے پر یقین نہیں کرتی ہے۔
اودے نیدھی اور اے راجہ کیخلاف سپریم کورٹ میں عرضی، مقدمہ در ج کیا جائے
سپریم کورٹ میں جمعرات (7 ستمبر) کو تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادھیاندھی اسٹالن اور ڈی ایم کے ایم پی اے راجہ کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی۔ عرضی گزار ونیت جندل نے بتایا کہ ادے نیدھی اسٹالن نے سناتن دھرم کو ختم کرنے کا بیان دیا، لیکن تامل ناڈو پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ اس معاملے میں دہلی پولیس کو بھی شکایت دی گئی تھی، لیکن اس نے بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، چونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی تمام ریاستوں کی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ نفرت انگیز بیانات کے خلاف کارروائی کریں۔ اسی وجہ سے ڈی ایم کے لیڈر اودے نیدھی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرکے تمل ناڈو اور دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کی بھی توہین کی ہے۔درخواست میں ادھیاندھی اسٹالن کے علاوہ اے راجہ کے بیان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تمل ناڈو حکومت کے وزیر ادھیانیدھی اسٹالن نے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔



