کامیابی کا جشن تو بہت بار منایا جاتا ہے لیکن ناکامی کا خیر مقدم کرنا-ایک مشکل امر ہےجبکہ ناکامی کو قبول کرلینا بھی ایک فن ہے۔
✍️حافظ محمد الیاس
ذہنی دباؤ یا ٹینشن کو ہر بیماری کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ذہنی دباؤ جسمانی عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔دور حاضر کی تیز رفتار زندگی میں مشکلات اور پریشانیوں نے ہر شخص کو ٹینشن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ انسان کو چڑحڑے پن کاشکار کردیتا ہے اور صحت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کرنے کے لیےمثبت انداز فکر اپنانا بےحد ضروری ہے۔حالات کتنے ہی منفی کیوں نہ ہو جائیں اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ کر اور حالات کو خود پر حاوی نہ ہونےدے کر خود کوٹینشن اور اذیت سے بچایا جاسکتا ہے۔آپ جتنا چیزوں کو اپنے سر پر سوار کریںنگے اتناہی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا اور آپ کا دماغ مزید الجھتا چلا جائے گا۔ایسی صورتحال میں خود کو ریلیکس رکھنا اور سوچ کو مثبت چیزوں پر مرکوز کرنا بے حد ضروری ہے۔
اگر آپ کسی بھی مشکل کا شکار ہوں تو بجائے دماغ کی کھچڑی بنانے کے کچھ دیر کسی بھی پرسکون جگہ پر لیٹ جائیں ذہن کومکمل طور پر خالی چھوڑ دیں اور پھر چیزوں کے مثبت پہلوؤں پرغور کرنا شروع کریں۔انسان ہمیشہ جیتنا چاہتا ہے اسے تمام تر خواہشات دسترس میں چاہئیں اور اگر کبھی حاصل کی گئی جدوجہد لاحاصل میں بدل جائے تو غصے کی شدید لہر پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور غم و غصے کی اس لہر پر اگر صبر کا پانی نہ ڈالا جائے تو منفی سوچ کے لیے رستہ بنالینا مشکل نہیں رہتا۔
اس کے لیے متوازن اور حقیقت پسند رویہ اپناتے ہوئے ناکامی کو قبول کرلیاجائے جیت اور کامیابی کا جشن تو بہت بار منایا جاتا ہے لیکن ہار کا خیر مقدم کرنا مشکل مرحلہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم نے ہارنا سیکھا ہی نہیں جیت سےملنے والی خوشی کا حقیقی اندازہ تب تک نہیں لگایا جاسکتا جب تک کڑواہٹ کو مٹھاس میں نہ بدل دیا جائے کیونکہ ناکامی کو تسلیم کرلینے کے بعد نئے سرے سے جب جدوجہد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس بار سعی پیہم اور مثبت سوچ کی وجہ سے جیت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ۔انسان کے لیے قابل قدر اقدام یہ ہے کہ جب وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرےتو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کو بھی یادرکھے اوراپنی گزشتہ لغزشوں سے سبق حاصل کرتےہوئے اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت میں بدلا جاسکتا ہے خیالات کا زاویہ، سوچ اور عمل کی شکل کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
برستی بارش کے قطرے سیپ اور سانپ ،دونوں کے منہ پر گرتے ہیں لیکن سیپ اس قطرے کو موتی اورسانپ زہر میں تبدیل کردیتا ہے۔یہی معاملہ مثبت اور منفی سوچ کا ہے۔خیالات توانائی کی نرم ترین قسم ہیں۔ بالکل گرم لوہے کی طرح جس کو اپنی مرضی کے رخ پر موڑا جاسکتا ہے،اسی طرح خیالات کو بھی جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتے ہیں۔اب یہ انسان کی اپنی مرضی ومنشا پر منحصر ہے کہ وہ منفی روش کے دھارے میں بہہ جائے یا پھر مثبت رویہ اور ثابت قدمی کا دامن تھام لے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی سعی کرے۔
چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی



