قومی خبریں

اب قطب مینار بھی ہندو تنظیموں کی فسطائی نظریں : کیا احتجاج ، قطب مینار کانام’ وشنو استمبھ‘سے بدلے جانے کی مانگ

نئی دہلی ،10مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کی وراثت کے خلاف چلائی جانے والی نفرت کی تحریک کے باعث گیان واپی مسجد ، تاج محل کے بعد ا ور قطب مینار بھی ہندو شدت پسند تنظیموں کی نظر میں کانٹے کی طرح چبھنے لگا ہے ۔ وہیں دہلی میں ان دنوں نام کی تبدیلی کی سیاست بی جے پی کی طرف سے زور شور سے کی جارہی ہے۔

بی جے پی نے دہلی کے کئی گاؤں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز حکومت کو بھیج دی ہے ، وہیں منگل کو ہندو تنظیم مہاکال مانو سیوا کے زر خرید کارکنان قطب مینار کے احاطہ میں پہنچ گئے ، اور قطب مینار کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔تاہم پولیس نے مظاہرین کو قطب مینار پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا اورتمام زر خرید کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

یہ ہندو تنظیم آج قطب مینار احاطے میں ہنومان چالیسا کاپاٹھ کرنے والی تھی، جس کے تحت پولیس نے انہیں روکنے کے لیے پہلے ہی چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔دہلی پولیس کے جوانوں کے ساتھ پیرا ملٹری فورس کے جوان بھی یہاں تعینات تھے۔ اس ہندو تنظیم کے زر خرید کارکنان کا مطالبہ تھا کہ قطب مینار کا نام بدل کر وشنو استمبھ رکھا جائے۔یہ تمام نام نہاد مظاہرین تمام بینرز اور پوسٹرز اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے تھے ۔

دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے منگل کو نئی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی) کو ایک خط لکھ کر دارالحکومت کی کئی بڑی سڑکوں کا نام بدلے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تغلق روڈ، اکبر روڈ، اورنگزیب روڈ، ہمایوں روڈ، شاہجہاں روڈ سمیت۔ انہوں نے مہارشی والمیکی، مہارانا پرتاپ، جنرل بپن راوت اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نام پر ان سڑکوں کا نام رکھنے کامطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button