سرورققومی خبریں

ناصر جنید قتل کیس: برآمد اسکارپیو ہریانہ کے محکمہ پنچایت راج کے نام درج، اٹھ رہے ہیں سنگین سوالات

بتایا جارہا ہے کہ سفید رنگ کی اسکارپیو جیپ جس کا نمبر HR70-4177 ہے، ہریانہ کے محکمہ پنچایت راج کے نام پر رجسٹرڈ ہے

جے پور ،24فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) راجستھان کے بھرت پور ضلع سے ناصر اور جنید کو اغوا کے بعد مار پیٹ اورزندہ جلائے جانے کے معاملے میں راجستھان کی بھرت پور پولیس نے ایک اسکارپیو گاڑی برآمد کی ہے۔ اب بتایا جارہا ہے کہ سفید رنگ کی اسکارپیو جیپ جس کا نمبر HR70-4177 ہے، ہریانہ کے محکمہ پنچایت راج کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ کار بھرت پور پولیس نے ہریانہ کے جند ضلع میں واقع سومناتھ گوشالہ سے برآمد کی ہے۔ پولیس تفتیش کے مطابق اس اسکارپیو گاڑی کو بھیوانی قتل کیس میں ملوث دو ملزمان نے استعمال کیا تھا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ اس گاڑی کی سیٹ پر خون کے نشانات پائے گئے ہیں۔

پولیس کو توقع ہے کہ جنید اور ناصر کو مارنے کے بعد ان دونوں کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہوں گے۔ اس دوران سیٹ پر دونوں کا خون لگا ہوگا۔اطلاع کے مطابق راجستھان پولس نے ہریانہ سے جو اسکارپیو جیپ کو برآمد کیا ہے، وہ ہریانہ کے پنچایت راج محکمہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اسکارپیو گاڑی جند ضلع کے ضلع پریشد محکمہ میں لگی ہوئی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اسکارپیو گاڑی ہریانہ کے محکمہ پنچایت راج کے نام پر رجسٹرڈ ہے تو پھر ملزمان تک کیسے پہنچی۔ راجستھان پولیس نے اس گاڑی کو برآمد کرنے سے پہلے اس کی جانچ کی تھی۔

اس گاڑی کی نقل و حرکت فیروز پور جھرکہ سے بھیوانی اور جند اضلاع تک پائی گئی۔ جس میں ناصر اور جنید کے قتل کے دوران دو ملزمان بیٹھے تھے۔اہم بات یہ ہے کہ 16 فروری کو ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے لوہارو کے قریب ایک بولیرو گاڑی جلی ہوئی ملی تھی۔ جس میں دو افراد کی نعشیں بھی جلی ہوئی حالت میں ملی ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تو پولیس کی تفتیش میں جائے وقوعہ کے آس پاس اسکارپیو گاڑی کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جس میں 2 ملزمان سوار تھے۔

پولیس نے جب اسکارپیو کو جند ضلع کے سومناتھ گوشالا سے برآمد کیا تو اسکارپیو کار کی سیٹ پر خون کے نشان پائے گئے۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ ناصر اور جنید کا خون بھی ملایا جا رہا ہے۔وہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس گورو سریواستو نے بتایا کہ جب پولس نے اسکارپیو گاڑی کو برآمد کیا تو اسے چیک کرنے پر پتہ چلا کہ اسکارپیو گاڑی سی ای او ضلع پریشد جند کے نام پر رجسٹرڈ تھی ،لیکن ضلع پریشد سے پوچھ گچھ کرنے پر پتہ چلا کہ اسکارپیو گاڑی کو 2020 میں نیلام کردیا گیا تھا۔ اب پولس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ کس شخص نے یہ اسکارپیو ضلع پریشد جند سے نیلامی کے ذریعے خریدی ،اور ان ملزمان سے اس کا کیا تعلق ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button