سرورققومی خبریں

ضلعی عدالت کی طرف سے اجازت ملتے ہی آدھی رات کو ویاس جی کے تہہ خانے میں پوجا کرلیا گیا

وارانسی میں گیان واپی کمپلیکس کے ویاس جی کے تہہ خانے میں جلد بازی میں پوجا کا آغاز

وارانسی، یکم فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)وارانسی میں گیان واپی کمپلیکس کے ویاس جی کے تہہ خانے میں جلد بازی میں پوجا کا آغاز کردیا گیا۔ کل مقامی کورٹ نے اس کی اجازت دی تھی اور سات روز کے اندر پوجا کا انتظام کرنے کا ضلع انتظامیہ کو حکم دیا تھا۔ گیان واپی مسجد کے تہ خانے میں پوجا کی اجازت ملنے کے بعد، تہہ خانے کی ایک خصوصی تصویر سامنے آئی ہے۔دراصل 1993 کے بعد یعنی 30 سال کے بعد پہلی بار یہاں پوجا کی گئی ہے۔ بدھ کو وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے ہندو فریق کو بڑی راحت دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ہندوؤں کو کمپلیکس کے تہہ خانے میں پوجا کرنے کا حق دیا تھا۔ جس کے بعد بدھ کی رات یعنی 31 جنوری کو عقیدتمند وہاں پہنچے اور رات کو ہی پوجا کی گئی۔آپ کو بتاتے چلیں کہ پوجا سے پہلے وہاں نصب رکاوٹیں ہٹا دی گئیں اور لوگ پوجا کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے۔

منظر عام پر آنے والی تصویر میں تہہ خانے میں ہندو عقیدتمندوں کا ایک ہجوم پوجا کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ وہاں سیکورٹی کے انتظامات بھی سخت دکھائی دے رہے ہیں۔ اتر پردیش پولیس کے دو اہلکاروں کو صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔مسلم فریق نے وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم کو اوپری عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ڈسٹرکٹ جج اجے کرشنا وشویش کی عدالت نے ویاس جی کے پوتے شیلیندر پاٹھک کو تہہ خانے میں پوجا کرنے کا حق دیا۔گیان واپی کیس میں، ہندو فریق کے وکیل سدھیر ترپاٹھی نے بتایاکہ 1993 میں گیان واپی میں ویاس کے تہہ خانے میں پوجا ہوئی تھی۔ ملائم سنگھ یادو کی اس وقت کی حکومت نے بغیر کسی مجاز عدالت کے حکم کے اس کو لوہے کی تختی سے گھیر کر پوجا کو روک دیا تھا۔

ایک مقدمہ درج کیا گیا جس میں دو ریلیف مانگے گئے تھے۔ پہلی راحت یہ مانگی گئی کہ ویاس جی کے تہہ خانے کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹی اور خستہ حال ہیں اور اس پر قبضے کو روکا جائے۔ڈسٹرکٹ آفیسر کو ریسیور مقرر کیا جائے۔ اب 30 سال بعد تہہ خانے میں دوبارہ پوجا شروع ہوئی۔ بیری کیڈنگ کھلتے ہی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔ ادھر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے لکھنؤ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے مایوسی ضرور ہوئی ہے، لیکن اعلیٰ عدالتوں کا راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔ہمارے وکیل ضلعی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیان واپی کیس ایودھیا معاملہ سے مختلف تھا۔ ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے، ہمیں امید ہے کہ اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button