غزہ میں ایک پیچیدہ کارروائی میں ایک یرغمال بازیاب کرالیا گیا: اسرائیلی فوج
52 سالہ اسرائیلی بدو، قائد القاضی...
مقبوضہ بیت المقدس ،۲۸؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک پیچیدہ آپریشن کے بعد ایک اسرائیلی یرغمال کو بازیاب کرالیا۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ 52 سالہ اسرائیلی بدو، قائد القاضی کو فلسطینی عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران اغوا کیا تھا۔یہ بازیابی ایسے میں ہوئی ہے جب کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ اب اپنے 11 ویں ماہ میں ہے اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے۔فوج نے کہا کہ القاضی کو غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک پیچیدہ آپریشن میں رہا کرایا گیا۔ان کی صحت ٹھیک ٹھاک ہے اورانہیں میڈیکل چیک اپ کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
القاضی بنیادی طور پر عرب قصبے راحت کے رہائشی ہیں اور 7 اکتوبر کو جب انہیں عسکریت پسندوں نے پکڑا تو وہ اس وقت جنوبی اسرائیل میں ایک گودام میں گارڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اسرائیل کے چینل 12 نے القاضی کے اہل خانہ کو ایک اسپتال میں بھاگتے ہوئے دکھایا جہاں انہیں اس کے بعد لایا گیا تھا جب انہوں نے یہ خبر سنی کہ القاضی کو رہا کرایا جا چکا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، ”ہم یرغمالوں کو ان کے گھروں میں واپس لانے کے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
یرغمالوں اور لا پتہ افرادکے اسرائیلی گروپ نے کہا ہے کہ القاضی کی بازیابی معجزانہ تھی۔گروپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ صرف کوئی جنگ بندی ہی دوسرے اسیروں کی واپسی کو یقینی بنا سکتی ہے، کہاکہ تاہم، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صرف فوجی کارروائیاں ہی باقی یرغمالوں کو آزاد نہیں کرا سکتیں، جو 326 روز سے بدسلوکی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔گروپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والاکوئی معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔



