عاشق نے مردہ گرل فرینڈ سے شادی کرکے آخری خواہش پوری کردی،زندگی بھر غیر شادی شدہ رہنے کا عزم
آسام کے ایک عاشق نے اپنی مردہ گرل فرینڈ سے شادی کرکے اس کی آخری خواہش پوری کی اور زندگی بھر غیر شادی شدہ رہنے کا عزم کیا ۔
گوہاٹی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آسام میں ایک عجیب واقعہ سامنے آیا ہے۔ آسام کے ایک عاشق نے اپنی مردہ گرل فرینڈ سے شادی کرکے اس کی آخری خواہش پوری کی اور زندگی بھر غیر شادی شدہ رہنے کا عزم کیا ۔ آج کل جہاں محبت صرف اور صرف ہوس کی تسکین کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ عاشق اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں ، آسام کے اس عاشق نے اپنی مردہ گرل فرینڈ سے شادی کرکے دنیا کو محبت کی ایک الگ مثال پیش کر دی۔
آسام کے گوہاٹی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں جمعہ کے دن بیماری کی وجہ سے ایک لڑکی کی موت ہوگئی۔ جب عاشق اپنی گرل فرینڈ کے گھر شادی کا سامان لے کر پہنچا تو سب حیران رہ گئے۔ بٹوپن نے کہا کہ وہ پرارتھنا بورا سے شادی کریں گے ۔ محبوبہ کی اپنی دلہن بننے کی خواہش پوری کرنے کے لیے عاشق نے مرنے کے بعد بھی اسے اپنی دلہن بنالیا اور اس کی آخری خواہش پوری کردی۔
بتا دیں کہ عاشق بٹوپن تمولی کی عمر 27 سال ہے اور وہ موریگاؤں ، گوہاٹی ، آسام کا رہنے والا ہے۔ بٹوپن تمولی نے چوپرمکھ کے کوسوا گاؤں کی 24 سالہ پرارتھنا بورا کے گالوں اور ماتھے پر سندور لگایا ، جس طرح سے کوئی نئی دلہن کو سندور لگاتا ہے۔ نوجوان نے اس کے گلے میں مالا ڈالیں اور شادی کی رسومات پوری کر کے شادی کرلی ۔
بٹوپن تمولی اور پرارتھنا بورا طویل عرصے سے ایکدوسرے کو چاہتے تھے ۔ یہ بات دونوں کے گھر والوں کو بھی معلوم تھی ، دونوں گھر میں رشتے اور شادی کو لے کر بات کر رہے تھے اور چند روز قبل پرارتھنا کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ۔ انہیں گوہاٹی کے ایک اسپتال میں شریک کروایا گیا تھا۔ پرارتھنا کا جمعہ کو انتقال ہوا ،پرارتھنا کے کزن سبون نے بتایا کہ بٹوپن کا دل مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا ۔
لڑکی کی بہن نے بتایا کہ میری بہن خوش قسمت تھی۔ وہ بٹوپن سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اور لڑکے نے اسکی آخری خواہش پوری کر دی۔ آپ کو بتاتے چلیں، یہ ویڈیو یوٹیوب شارٹس پر @MEGHAshorts نام کے ہینڈل سے شیئر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا –
آسام کے نوجوان نے اپنی مردہ گرل فرینڈ سے شادی کرلی۔
یہاں شادی کی بہت سی رسومات ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی ‘مردہ کے ساتھ شادی’ کے رواج کے بارے میں سنا ہے؟ یہ بہت عجیب لگ سکتا ہے، لیکن کرناٹک کی کچھ برادریوں اور کیرالہ کے کچھ حصوں میں اس طرح کی شادیاں کی جاتی ہیں۔



