یوپی: مسجد فروخت کردی گئی، ایف آئی آر کا حکم، جانچ جاری
یوپی کے مشہورشہر علی گڑھ میں ایک مسجد بیچ دی گئی۔ مسجد کی فروخت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے اس میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے
علی گڑھ،26ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوپی کے مشہورشہر علی گڑھ میں ایک مسجد بیچ دی گئی۔ مسجد کی فروخت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے اس میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ الزامات کے مطابق محمد اسلم نامی شخص نے چندے کی رقم سے اپنی زمین میں مسجد بنوائی اور پھر اسے بیچ دیا۔انتظامیہ کو مسجد کی تعمیر کا علم تک نہیں تھا۔ یہ پورا معاملہ چرا ودھان سبھا پل خانہ کی نگر پنچایت کا ہے جہاں 4 سال قبل اسلم نے چندے کی رقم سے مسجد بنوائی تھی اور بعد میں اسے بیچ دیا تھا۔جب انتظامیہ کو اس معاملے کا علم ہوا تو تحقیقات کی ہدایات دی گئیں کیونکہ 1992 کے ایکٹ کے تحت انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی مسجد یا مندر نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ مسجد پل خانہ میں سڑک کے کنارے بنائی گئی ہے۔ خود مسجد بنانے والے علی گڑھ سے فرار ہیں۔انتظامیہ کو اس معاملے کا علم اس وقت ہوا جب پلخانہ نگر پنچایت کے کچھ بیع نامہ میں اسٹامپ چوری کا معاملہ سامنے آیا۔ اس کے بعد جب معاملے کی چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ پل خانہ نگر پنچایت میں واقع سڑک کے کنارے حال ہی میں بنی مسجد کو بیچ دیا گیا ہے۔ 1992 کا ایکٹ کہتا ہے کہ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی مذہبی مقام نہیں بنایا جا سکتا، پھر مسجد کیسے بھی بنائی گئی، اب سوال اٹھ رہا ہے۔مسجد بیچنے کے بعد محمد اسلم پل خانہ سے فرار ہو گیا۔ اے ڈی ایم فائنانس اینڈ ریونیو امیت کمار بھٹ نے بتایا کہ اسلم نے مسجد کی تعمیر کے لیے لوگوں سے چندہ اکٹھا کیا اور پھر اپنے فارم میں مسجد بنوائی۔
اس کے بعد اس نے مسجد بیچ دی اور پھر یہاں سے فرار ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پل خانہ میں مسجد فروخت کرنے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایس ڈی ایم کول کو محمد اسلم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔



