بنگلور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے باگل کوٹ میں ایک مسلم خاتون نے کرناٹک کے سابق چیف منسٹر و کانگریس لیڈر سدارامیا کی طرف سے دیے گئے 2 لاکھ روپے کے نوٹ پھینک دئے۔ بتایا گیا ہے کہ سدارامیا نے حال ہی میں کیرور فرقہ وارانہ فساد کے زخمیوں کی عیادت کے لیے بادامی حلقہ کا دورہ کیا۔جہاں 7 جولائی کو کیرور میں پیش آئے فرقہ وارانہ فسادات میں زخمی ہونے والوں میں امدادی چیک تقسیم کیے گئے۔ لیکن متاثرین کے چند لواحقین نے رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ امدادی رقم کے بجائے انہیں انصاف دلانے کا سدارامیا سے مطالبہ کیا۔ جس پر سدارامیا نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بات کریں گے لیکن زخمیوں کے اہل خانہ نے ان کی ایک نہیں سنی۔انہوں نے اصرار کیا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں۔
چند زخمیوں کے ارکان خاندان میں رقم تقسیم کرنے کے بعد سدارامیا اسپتال کے لیے روانہ ہوگئے جہاں متاثرین تھے۔ اس موقع پر ایک خاتون نے سدارامیا کی کار کے پاس پہنچ کر دو لاکھ روپے کی رقم واپس کرنے کی کوشش کی لیکن وہ رقم لئے بغیر آگے نکل گئے۔تاہم خاتون نے کار کے قافلے کے پیچھے دوڑتے ہوئے نوٹوں کے بنڈل کو ایک کار پر پھینک دیا۔جس میں سیکورٹی عملہ سوار تھا خاتون کی جانب سے نوٹوں کے بنڈل کو پھینکنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ وہاں سے سدارامیا آشیرواد ہاسپٹل گئے اور زخمی حنیف، راجہ صاحب، رفیق اور داول ملک کی عیادت کی۔ ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ خاتون نے سدارامیا کے قافلے پر یہ کہتے ہوئے پیسے پھینکے تھے، "سوامی، مجھے انصاف دو، آپ کے پیسے کس کو چاہیے؟
خواتین نے کہا کہ ہمارا سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی بے عزتی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان کے پس منظر میں ہم صدمہ میں ہیں۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ سدارامیا کو پیسے دینے کے بجائے ہمیں انصاف دلوائیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا ساری برادری کے رہنما ہیں۔ وہ ایک سیاست دان ہے جو ہمیشہ ہر کمیونٹی کے لیے کھڑا رہتا ہے۔ ۔ میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حادثاتی واقعہ ہے اور ہمارا مقصد سدارامیا کی بے عزتی کرنا نہیں تھا۔



