بین ریاستی خبریں

خاتون کھلاڑی کا ہریانہ حکومت پر سنگین الزام! ’ مجھے ملک چھوڑنے کیلئے ایک کروڑ کی پیشکش کی گئی اور دباؤ بنایا گیا‘

متاثرہ خاتون کھلاڑی نے منگل کی دیر رات ہریانہ حکومت اور سندیپ سنگھ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کئی انکشافات کیے۔

Sandeep Singh case چنڈی گڑھ، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایک بین الاقوامی خاتون کھلاڑی کو مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں پھنسے ہریانہ حکومت کے وزیر سندیپ سنگھ پر مزید سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں۔ ہریانہ حکومت بھی کھل کر سندیپ سنگھ کی حمایت میں کھڑی ہے۔ متاثرہ خاتون کھلاڑی نے منگل کی دیر رات ہریانہ حکومت اور سندیپ سنگھ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کئی انکشافات کیے۔ متاثرہ کے مطابق اسے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے اور ملک چھوڑ کر کہیں بھی چلی جائے۔ ایک ماہ تک منہ بند رکھنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کے بعد بھی اسے جتنے پیسے چاہیے دیئے جائیں گے۔چنڈی گڑھ کے سیکٹر 26 پولیس اسٹیشن میں کیس درج ہونے کے چوتھے دن منگل کو متاثرہ لڑکی اپنے دو وکلاء کے ساتھ معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ صبح 11 بجے شروع ہونے والی ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ بغیر کسی وقفے کے شام تقریباً 7.30 بجے تک مسلسل جاری رہی۔ صبح سے ہی تھانے کے سامنے میڈیا کا بہت بڑا مجمع موجود تھا۔ سوال یہ تھا کہ چنڈی گڑھ پولیس کی ایس آئی ٹی 8 گھنٹے سے زیادہ پوچھ گچھ کے باوجود متاثرہ سے کیا جاننا چاہتی تھی، جو سوالوں کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا! ان 8 گھنٹے سے زیادہ میں چنڈی گڑھ پولیس نے میڈیا کو ایک بار بھی بریف کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔شدید سردی میں میڈیا کے ہنگامے کے بعد چنڈی گڑھ پولیس بالآخر شام ساڑھے سات بجے متاثرہ کو میڈیا کے سامنے لائی۔

میڈیا کے سامنے متاثرہ کی جانب سے اٹھائے گئے سنگین سوالات کی فہرست نے ہریانہ کی کھٹر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی شکایت پر تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کے سامنے سب کچھ تفصیل سے بتا دیا ہے۔ اس سوال پر کہ پولیس آپ سے چوتھی بار پوچھ گچھ کر رہی ہے اور سندیپ سنگھ کو ایک بار بھی پوچھ گچھ کے لیے نہیں بلایا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تب تک رہے گا جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیتے۔ متاثرہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ تحقیقات کو مکمل طور پر متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متاثرہ کے وکیل دیپانشو بنسل نے کہا کہ 29 دسمبر کو شکایت دینے کے بعد 30 دسمبر کو چنڈی گڑھ پولیس میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے ہریانہ پولیس کی ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ معاملہ چنڈی گڑھ میں پیش آنے کے باوجود وہ نہیں چاہتے کہ معاملہ کی تحقیقات چنڈی گڑھ پولیس کرے۔ چنڈی گڑھ پولیس نے انہیں 160 کے تحت نوٹس دیا تھا کہ آپ چنڈی گڑھ ایس آئی ٹی کے سامنے حاضر ہوں اور اپنی پوری کہانی بتائیں۔ اسی کال پر ہم آج صبح گیارہ بجے تھانے پہنچے تھے۔ بغیر کسی وقفے کے تقریباً آٹھ گھنٹے تک ایس آئی ٹی نے متاثرہ سے مسلسل پوچھ گچھ کی اور سب کے جوابات دیئے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button