
اے آئی جی ہاسپٹل کا دعوی ۔ ہیلت کئیر ورکرس پر اسٹڈی ۔ زیادہ افراد کو ٹیکہ دینے پر زور
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جو لوگ کورونا سے پہلے ہی متاثر ہوچکے ہیں ان کیلئے ٹیکہ کی واحد خوارک ہی کافی ہوگی ۔ حیدرآباد کے اے آئی جی ہاسپٹل ( ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹرو انٹرالوجی ) نے یہ بات بتائی ۔ دواخانہ کا کہنا ہے کہ اس نے جملہ 260 ہیلت کئیر ورکرس پر ایک اسٹڈی کی ہے جنہیں جنوری 16 سے فبروری 5 کے درمیان کورونا ٹیکہ دیا گیا تھا ۔ اس اسٹڈی کا مقصد تمام مریضوں میں قوت مدافعت میں اضافہ کا جائزہ لینا تھا ۔
تمام مریضوں کو کووی شیلڈ ٹیکہ دیا گیا تھا ۔ اس اسٹڈی میں جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق جو لوگ پہلے ہی کورونا سے متاثر ہوچکے تھے ان میںصرف ایک خوارک سے ہی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے بہ نسبت ان افراد کے جنہیں کورونا انفیکشن نہیں ہوا تھا ۔ اے آئی جی ہاسپٹل کے صدر نشین ڈاکٹر ڈی ناگیشور ریڈی نے بتایا کہ اسٹڈی کے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق جو لوگ کورونا متاثر ہوچکے تھے۔
ان کیلئے ٹیکہ کی ایک ہی خوراک کافی ہوگئی ہے اور انہیں دوسری خوراک کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان افراد میں کورونا سے اب تک بچے ہوئے افراد سے زیادہ قوت مدافعت ایک خوراک سے پیدا ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسٹڈی ایسے وقت میں انتہائی معاون ہوسکتی ہے جب ملک میں ٹیکہ کی قلت ہے اور اضافی خوراک کو بچاتے ہوئے زیادہ افراد کو ٹیکہ دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں خاطر خواہ تعداد میں لوگوں کو ٹیکہ دیدیا جائیگا اور ان میں قوت مدافعت پیدا ہوجائے گی تب پہلے سے متاثر افراد کو دوسری خوراک دی جاسکتی ہے ۔
فی الحال ہماری ساری حکمت عملی اسی بات پر ہونی چاہئے کہ ہم دستیاب ٹیکوں کو زیادہ سے زیادہ افراد تک کم از کم ایک خوراک پہونچائیں۔ ملک میں کورونا کی دوسری لہر جب شدت سے پھیل رہی تھی ٹیکوں کی قلت پیدا ہوگئی تھی اور اس کی پیداوار ‘ متاثرین کے تناسب سے کم تھی ۔ ڈاکٹر ریڈی نے کہا کہ ہمیں ٹیکہ اندازی کی حکمت عملی سائنٹفک شواہد کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آبادی کے بڑے حصے کو کم سے کم وقت میں ٹیکہ دیا جاسکے ۔



