
تمام بچوں کو سرکاری اخراجات پر ہوائی جہاز کے ذریعہ بھیجا گیا
پٹنہ17جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیدائش کے بعد سے ہی دل میں سوراخ رکھنے والے 18 بچوں کے تیسرے گروپ کو علاج کے لئے احمد آباد پہنچایا گیا ۔ واضح ہو کہ اس سے قبل 8 جولائی کو #دل میں #سوراخ والے 16 بچوں کی ایک ٹیم علاج کے لئے احمد آباد روانہ کی گئی تھی۔ پرشانتی #میڈیکل سروسز اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے تعاون سے ایسے بچوں کا علاج کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل 2 اپریل کو بھی پیدائش سے ہی دل میں سوراخ والے 21 بچوں کو علاج کے لئے احمد آباد بھیجا گیا تھا۔
پہلے گروپ سے #علاج میں حاصل تجربے کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے 6 سال سے کم عمر کے #بچوں کی والدہ کے علاوہ کسی دوسرے گارجین کے اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل بھی ہورہا ہے۔ ریاست کے باہر شناخت شدہ چیریٹیٹ ٹرسٹ ہسپتال / نجی اسپتال میں طبی علاج معالجے کے لئے ٹرانسپورٹ کرایہ بھی پانچ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے کردیا گیا ہے۔جس کو ریاستی حکومت برداشت کرتی ہے۔ رابطہ کے لئے ایک کوآرڈینیٹر بھی ہوگا جو علاج کے بعد بچوں کے ساتھ واپس آئے گا۔
ان تمام بچوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔پرشانتی میڈیکل سروسز اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کی پیدائش سے ہی دل کی خرابی والے بچوں کے مناسب علاج کے لئے حکومت نے نشاندہی کی تھی اور 13 فروری 2021 کو حکومت نے اس کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے تھے۔ اس #معاہدے کے تحت پرشانتی میڈیکل سروسز اینڈ ریسرچ #فاؤنڈیشن کے #احمدآباد میں واقع اسپتال میں پیدائش سے ہی دل میں #سوراخوں والے #بچوں کے علاج کے لئے رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔
اسی تسلسل میں پرشانتی میڈیکل سروسز اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں کی مدد سے 10 مارچ 2021 کو 126 بچوں کااور11 مارچ 2021 کو 73 بچوں کا ”اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، #پٹنہ میں معائنہ کیا گیا۔گڈ گورننس کے پروگرام (2020-2025) کے تحت،بال ہردیئے یوجنا کے تحت سب کے لئے اضافی صحت کی سہولت” کے تحت دل میں سوراخوں کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے مفت علاج کے لئے منظوری دی گئی ہے نئی اسکیمبال ہردیئے یوجنا” جو خود فیصلہ سازی کے 7 عزم 2 میں شامل ہے۔
خود انحصار بہار کے #پروگرام کے تحت یہ سہولت مہیا کی جارہی ہے۔بچوں میں پیدائشی بیماریوں کے درمیان دل میں سوراخ ہونا ایک سنگین مسئلہ / بیماری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پیدا ہونے والے 1000 میں سے 9 بچے پیدائشی طور پر دل کی #بیماری سے متاثرین پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے تقریبا 25 فیصد نوزائید بچوں کو پہلے سال میں سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔



