چنئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دھنپال نامی نوجوان تمل ناڈو کے نمکل ضلع کے کلی پالیم کے رہنے والے ہیں۔ دھنپال شادی کرنے کے لیے کافی عرصے سے رشتے تلاش رہے تھے، لیکن شادی کہیں طے نہیں ہورہی تھی۔ اسی دوران شادی کروانے کے لیے بالاموروگن نامی ایک شخص نے دھنپال سے ملاقات کی اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔
بالاموروگن جو اپنے آپ کو مشاطہ بتایا تھا۔اس نے سندھیا نامی ایک نوجوان خاتون کا رشتہ دھنپال کے لیے لیکر آیا،دونوں کی آپسی ملاقات کے بعد شادی طئے کی گئی۔ سندھیا اور دھنپال کی شادی اس مہینے کی 7 تاریخ کو ایک مندر میں ایک سادہ تقریب میں ہوئی۔ شادی میں صرف دو افراد اور بروکر بالاموروگن نے شرکت کی، جنہوں نے سندھیا کی بڑی بہن اور بہنوئی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
جبکہ نوشہ کی جانب سے شادی میں بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔ شادی کے اگلے دن دولہے نے شادی کا انتظام کرنے والے بالاموروگن کو 1.50 لاکھ روپے کا کمیشن دیا۔شادی کے بعد تین دن تک اپنے شوہر دھنپال کے ساتھ رہنے والی سندھیا اچانک غائب ہوگئی۔ دلہن کے موبائل فون پرکال کرنے پر سوئچ آف آرہا تھا۔دولہے نے شادی کروانے والے ایجنٹ اور دلہن کی بہن اور بہنوئی سے رابطہ کرنے کے لیے کال کیا انکے نمبر بھی بند تھے۔
تمام فون بند ہیں اپنی بیوی سندھیا کی گمشدگی سے صدمے میں دھنپال نے کئی جگہوں پر اس کی تلاش کی۔ دولہا دھنپال کے گھر والوں نے آخر کار پولیس میں شکایت درج کرائی۔
ایک اور شادی کی تیاری
دھنپال کئی جگہوں پر سندھیا کو تلاش کر رہا تھا، جس نے اس سے شادی کرنے کے تین دن کے اندر ہی اسے دھوکہ دیا تھا۔ بالاموروگن نے دھنپال کے رشتہ دار کو سندھیا کی تصویر دکھائی اور اس سے شادی کرنے کی بات کی۔ سندھیا کی ایک اور شخص کے ساتھ شادی کی تاریخ بھی طے کی گئی ہے۔
دھنپال کو پتہ چلتا ہے کہ سندھیا دوبارہ شادی کرنے والی ہے۔سندھیا اور اس کے بہنوئی، جو دوسرے نوجوان سے شادی کروانے کے لئے تیار تھے، ایک کار میں دولہے کے گاؤں کے قریب مندر گئے۔ دھنپال اور ان کی فیملی کے ممبران، نے سندھیا، بروکر بالاموروگن اور سندھیا کے بڑے بہنوئی، جو پہلے ہی موقع پر پہنچ چکے تھے انہیں پکڑ لیا اور ان کی پٹائی کی اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔
سندھیا نے پہلے 6 شادیاں کی۔
نامکل ضلع پولیس نے بتایا کہ پولیس تحقیقات کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ،انہوں نےکہا کہ سندھیا نے پہلے ہی چھ افراد سے شادی کی تھی اور جب وہ ساتویں بار شادی کر رہی تھی تو وہ پھنس گئی تھی۔ یہ گروہ کا کام ہی تھا کے شادی کرنا اور فرار ہونا۔ پولیس نے بتایا کہ بالاموروگن نے قبول کیا کے اس نے شادی فراڈ سے لاکھوں روپے جمع کیے۔سندھیا کی گرفتاری نے تمل ناڈو میں ہلچل مچا دی ہے۔



