دو سال سے اپنی ماں کی قبر کے پاس سو رہا ہے۔بچےکی دلسوز کہانی
الجزائر کے ایک لڑکے کی اس حوالے سے حیران کن کہانی سامنے آئی ہے جس نے اپنی ماں کی وفات کے بعد دو سال سے اس کی قبر کے پاس ہی ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔
ادرار:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بچوں کے لیے ماں باپ دنیا کی ہرچیز سے بڑھ کر اہم ہوتے ہیں اور ان کے بچھڑنے کا صدمہ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ادیب اور شاعر اپنے پیاروں کے بچھڑنے کے غم اور صدمے کو کم کرنے کے لیے قلم اور الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے پیاروں کا نوحہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ دعا کرکے اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے پیاروں کی جدائی کے غم کو غلط کرنے کے لیے دیگر طریقے اپناتے ہیں۔ لیکن یہاں الجزائر کے ایک لڑکے کی اس حوالے سے حیران کن کہانی سامنے آئی ہے جس نے اپنی ماں کی وفات کے بعد دو سال سے اس کی قبر کے پاس ہی ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔
جنوبی الجزائر کے صوبہ ادرار کے ولید احمد تیمی کی میونسپلٹی کے باب اللہ پیلس سے تعلق رکھنے والے اسماعیل بیرابہ Ismail Berabih ان نوجوانوں میں سے ایک ہیں جن میں اپنی والدہ کی وفات نے ایک گہرا زخم چھوڑا، جس سے وہ اپنے درد کو ایک خاص انداز میں بیان کرنے پر تل گیا۔سوشل میڈیا پر کارکنوں نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا ہے جس میں اسماعیل کو اپنی والدہ کی قبر کے پاس پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
اس واقعے کے مناظر شائع کرنے والے نے بتایا کہ اسماعیل کا تعلق ریاست ادرار سے ہے اور وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سے شدید غم اور صدمے کا شکار رہا ہے۔ اس کی والدہ دو سال قبل فوت ہوگئی تھی۔اس واقعے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نوجوان کے لیے ہمدردی اور یکجہتی کا رد عمل پیدا کیا۔
صحافی اسامہ وحید نے اپنے صفحہ پر لکھا کہ ’’یہ وہ درد ہے جس نے یتیمی اور جدائی کے تصور سے بالاتر ہوکر سوگوار کا لقب اختیار کیا، یہ اس لڑکے کی کہانی ہے جس نے اپنی ماں کی قبر کو اپنی رہائش اور سکون کے لیے چنا تھا کیونکہ وہ اپنی پیاری ماں کی جدائی کا غم کسی اور طریقے سے کم نہیں کرسکتا تھا۔ شائد اسے ماں کی قبر کے پاس ہی سکون ملتا تھا۔ اس لیے وہ دو سال سےاپنی ماں کی لحد کے قریب پڑا رہتا ہے۔اس نے مزید کہا کہ غمزدہ لڑکا اب بھی اپنی ماں کی گود میں ہے۔ ایک قبر کی شکل کے گھڑے میں اس کے پاس سو رہا ہے۔ اپنی ماں کے درد کو گلے لگا رہا ہے، جو اس کی ساری زندگی تھی۔ ماں تو ہمیشہ کے لیے اس سے دور ہوگئی مگر اس نے اب بھی ماں کو دل میں بسا رکھا ہے۔
اسماعیل بیربیح کی کہانی کی وجہ سے ہونے والے ہنگامے نے ریاست ادرار کے مقامی حکام کو حرکت میں لایا، جہاں ریاست کے گورنر نے صحت اور آبادی کے ڈائریکٹر کو اس کے لیے نفسیاتی اور طبی امداد لینے کی ذمہ داری سونپی۔ ریاست کے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ایکٹیویٹی اینڈ سالیڈریٹی میں قومی یکجہتی کی ٹیموں نے اسے فوری طور پر ہسپتال کے ادارے میں منتقل کیا، جہاں اس کی تشخیص ہوئی اور اسے ابتدائی علاج دیا گیا۔ دماغی امراض میں ماہر ڈاکٹر کو بھی اس کی صحت کی حالت پر نظر رکھنے کے لیے تفویض کیا گیا ہے، جو بدلے میں اسے دماغی امراض کے ماہر اسپتال میں منتقل کرے گا تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے اور اس کی دیکھ بھال کی جا سکے۔مقامی حکام نے اس کی نفسیاتی اور ذہنی حالت کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا۔



