مدار madar یعنی آکھ aak سے گھریلو علاج
ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
آکھ پورے ہندوستان کا عام اور خو د رو اپنے آپ اگنے والا پودا ہے۔ یہ دوقسم کا ہوتا ہے۔ سفیدپھول والا اور گلابی پھول والا۔ عام طور پر گلابی پھول والا زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ پتے برگد (بڑ کے پتوں کے مشابہ اور گداز (نرم) ہوتے ہیں۔ پھول سفید ہوتا اور اس پر رنگین پتیاں ہوتی ہیں۔ پھل آم کی شکل کا ہوتا ہے اور اس کے اندر ریشمی سی روئی بھری ہوتی ہے۔ مئی جون کے مہینوں میں جب لو کی تیزی سے سارے پودے کمھلاجاتے ہیں۔ یہ ہرا بھرا رہتا ہے۔ مگر برسات میں سوکھ کر پھر ہرا ہوجاتا ہے۔ اس کے پتے اور شاخ کو توڑنے پر سفید گاڑھا دودھ نکلتا ہے ۔
یہ دودھ اور اس پودے کے پتے، پھول اور جڑ دوا کے کام آتے ہیں۔ اس کا دودھ طبی اغراض کے علاوہ چمڑے کے رنگنے کے کام میں بھی آتا ہے۔ چمڑے کی بو اور تازہ چمڑے سے بال دور کرنے کے کام آتا ہے۔پودے میں سے دو قسم کے ریشے برآمد ہوتے ہیں ایک تو پھل کی روئی میں سے دوسرے ٹہنیوں کی چھال میں سے۔یہ پودا بنجر اور ریگستانی زمینوں میں بکثرت ہوتا ہے۔
آکھ کے طبی فائدے
طبی ضرورت کے لئے اس کی جڑ کو گرم وخشک موسم میں حاصل کرنا چاہئے۔آکھ کی جڑ کی چھال جلدی بیماریوں، آنتوں کے کیڑوں، کھانسی اور جلندھر (پیٹ میں پانی بھرجانے ) میں کام آتی ہے۔ ہیضے میں نہایت مفید ہے۔ ہیضہ کے لئے بہترین دوا ہے۔ آکھ کی جڑ کا چھلکا او رکالی مرچیں، وزن میں برابر لے کر پیسیں اور ادرک کے رس میں چنے برابر گولیاں بنالیں۔ ایک ایک گولی دو دو گھنٹے کے بعد دیں۔ آکھ کی جڑ کو فیل پا اور فتق (آنت اترنا) میں چاولوں کے سر کے میں پیس کر لیپ کرتے ہیں۔
نمبر ۱:۔آکھ کا دودھ داد کی بہت اچھی دوا ہے۔ جو داد کسی دوا سے بھی اچھا نہ ہوتا ہو اسے کپڑے سے کھجا کر یہ دودھ لگادیا جائے۔ اس کے لگانے سے کچھ تکلیف ضرور ہوگی۔ لیکن ایک ہی بار کے لگانے سے داد اچھا ہوجائے گا۔ اگر ایک بار لگانے سے اچھا نہ ہو تو چند روز چھوڑ کر پھر لگائیں مگر شگر کے مریض اس کو نہ آزمائیں۔
نمبر2:۔آکھ کے دودھ سے نسوار (ہلاس) بھی بنائی جاتی ہے جس کو ناک میں سڑکنے سے بند زکام کھل جاتا ہے۔ سر میں درد ہو تو وہ بھی رفع ہوجاتا ہے۔ اپلے کی راکھ لے کر اس راکھ کو آک کے دودھ میں بھگو کر سکھالیں۔ اور ایسا تین بار کریں پھر پیس لیں۔ ضرورت کے وقت سونگھیں ۔ اس سے آدھے سر کا درد بھی چلا جاتا ہے۔
نمبر3:۔آکھ او رتھوہر کے دودھ میں پیس کر زر شک (ایک کھٹی دوا)کی لکڑی کے سفوف میں ملاکر خشک کرلیں۔ اس روئی کی بتی (فتیلہ) بناکر زخموں اور ناسور میں رکھنے سے جلد اچھے ہوجاتے ہیں اور پیپ بہنا کم ہوجاتی ہے۔ دودھ کے چند قطرے بتاشے میں رکھ کر کھانے سے بلغم خارج ہوجاتا ہے اور اس کی پیدائش بھی رک جاتی ہے۔ جسم پر لگانے سے بال اڑجاتے ہیں گنج (سر کا داد) شہد میں ملاکر لگانے سے منہ کے چھالوں کو اچھا کرتا ہے۔ روئی کو اس کے دودھ میں ترکر کے دانت کے خلا میں رکھنے سے دانت کے درد کو تسکین ہوتی ہے۔ سوجن پر اس کا ضماد (لیپ) کرکے اوپر سے پتے باندھنے سے درد اور سوزش میں کمی آجاتی ہے۔
نمبر4:۔آکھ کے پتے تلوں کے تیل سے چپڑ کر گرم کریں اور گٹھیا میں جوڑوں پر باندھیں چند بار ایسا کرنے سے درد رفع ہوجائے گا اور سوجن بھی نہیں رہے گی۔ آکھ کا پتا جو پک کر پیلا پڑ گیا ہو آگ پر سینکیں اور چٹکی سے مسل کر اس کے دو قطرے کان میں ڈالنے سے کان کا درد جاتا رہتا ہے۔ سرسوں کے تیل میں پتوں کو جلا کر فالج میں مالش کریں۔ یہی تیل گٹھیا ، درد کمر ، رینگن کے درد (عرق النسا) میں بھی مفید ہے۔ خشک پتوں کے سفوف کو زخموں پر چھڑ کنے سے زخم جلد مندمل ہوجاتے یعنی جلد بھرجاتے ہیں۔ اس کے پتوں کو نمک لگاکر ایک مٹی کی ہانڈی میں ڈال کر گل ِحکمت کردیا جائے تاکہ آگ پر جلانے سے دھواں باہر نہ نکلے پھر ہانڈی کو آنچ پر رکھ کر پتوں کو جلاڈالیں۔ یہ راکھ اکسیر سمجھی جاتی ہے۔
نمبر5:۔پھول اس کے ہاضم ہوتے ہیں۔ معدے کو قوت دیتے اور بھوک لگاتے ہیں۔ کھانسی، دمے اور نزلے کے علاج میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ بادی اور بلغم کو دور کرتے ہیں۔ اسی غرض سے ان کو چورنوں میں ڈالا جاتا ہے۔آکھ کی (کلیاں/پھول) سونسٹھ ، اجوائن دیسی اور کالا نمک ہم وزن (برابر برابر) لے کر لیموں کے رس یا صرف پانی میں گوندھ کر چنے برابر گولیاں بنالیں۔ ایک سے دو گولیوں تک کھائیں۔
نمبر6:۔آکھ کی کھار (نمک مدار) کھانسی، دمے اور گٹھیا میں مفید ہے۔ غذا کو ہضم کرتی اور بھوک لگاتی ہے۔ ایک رتی کھار شہد اصلی 5 گرام میں ملا کر چٹائیں یا پان میں رکھ کر کھلائیں۔
کھار بنانے کی ترکیب: خشک پودوں کو جلاکر راکھ کرلیں۔ اگر راکھ ایک کلو ہو تو اس کو آٹھ کلو پانی میں گھول لیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد لکڑی سے چلاتے رہیں۔ دوسرے دن صبح کو اوپر کا پانی (زلال) احتیاط کے ساتھ لے کر صاف کڑاہی میں ڈال کر پکائیں۔ یہاں تک کہ تمام پانی جل کر صرف نمک باقی رہ جائے۔ جو احباب ہمیشہ کھانسی اور بلغم سے پریشان رہتے ہیں آکھ کی جڑ کو سکھالیں اور سفوف کو ہم وزن کالی مرچ ملاکر شہد میں ملاکر چٹنی بنالیں دن میں دو مرتبہ صبح وشام دو دو گرام گرم پانی سے لیں انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔



