
نئی دہلی12مارچ(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عام آدمی پارٹی کانگریس کی متبادل بننے کی کوشش میں ہے۔اس پرالزام ہے کہ وہ صرف کانگریس کاووٹ تقسیم کرتی ہے ۔وہ وہاں زیادہ سرگرم ہوتی ہے جہاں کانگریس ،بی جے پی میں براہ راست مقابلہ ہے۔دہلی کے مسلمان اب عام آدمی پارٹی سے ناراض ہیں۔
تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے میں جس کے بعد ملک بھرمیں کورونا پرمسلمانوں کومشکوک کیا گیا،اس میں کجریوال اینڈ کمپنی کااہم کردار ہے نیز دہلی فسادات کے وقت کجریوال سرکار کا کرداربھی اچھا نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ میں ہوئے ضمنی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کی زبردست شکست ہوئی ہے۔اناہزارے تحریک کے ان کے قریب سبھی ساتھی آج بی جے پی میں ہیں۔
پنجاب اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعدعام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے ہفتے کے روزاعلان کیاہے کہ وہ پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں اس سال کے آخر میں تمام اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑنے جا رہی ہے۔
پارٹی نے کہاہے کہ وہ عام آدمی کا متبادل بننا چاہتی ہے جو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے تنگ ہے۔ دہلی کے وزیر ستیندر جین نے سنیچر کو شملہ میں مارچ کیا۔ عام آدمی پارٹی اگلے ماہ شملہ میں بلدیاتی انتخابات بھی لڑے گی۔پنجاب میں عام آدمی پارتی کی جیت کسی بھی ریاست میں پارٹی کی پہلی جیت ہے۔
2017 میں بھی عام آدمی پارٹی نے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کانگریس کے بعد دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اس بار، کانگریس کے لیے اپنی طاقت بچانے سے بہت دور، وہ 117 میں سے صرف 18 سیٹیں جیت سکی۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی نے 92 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔



