
کیجریوال کو بڑا جھٹکا: 13 کونسلروں نے استعفیٰ دے کر نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
13 کونسلروں کا ایک ساتھ استعفیٰ دینا عآپ کے لیے بڑا دھچکا
عام آدمی پارٹی کے 13 کونسلروں نے پارٹی سے استعفیٰ دیا، اندر پرستھ وکاس پارٹی کے قیام کا اعلان
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کی سیاست میں ہلچل اس وقت مچی جب عام آدمی پارٹی (عآپ) کے 13 منتخب کارپوریشن کونسلروں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کونسلروں نے نہ صرف عآپ کی ابتدائی رکنیت ترک کی بلکہ نئی سیاسی جماعت ’اندر پرستھ وکاس پارٹی‘ کے قیام کا اعلان بھی کر دیا۔ یہ واقعہ اروند کیجریوال کی قیادت میں جاری پارٹی بحران کو مزید گہرا کرتا ہے، اور عام آدمی پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
مستعفی کونسلروں نے عآپ کی اعلیٰ قیادت پر الزام لگایا کہ وہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو مؤثر طریقے سے نہیں چلا پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جا سکے، اور پارٹی میں جمہوری اقدار کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ کونسلروں نے اندرونی رابطے کے فقدان، اختیارات کے مرکزی کنٹرول، اور پالیسی میں عدم شفافیت کو بھی اپنی ناراضگی کی وجہ بتایا۔ نئی پارٹی کے قائد کے طور پر مکیش گویل کا انتخاب کیا گیا ہے، جب کہ پارٹی کی تشکیل میں ہیم چند گویل کا اہم کردار رہا ہے۔
مستعفی ہونے والے کونسلروں میں مکیش گویل، ہیم چند گویل، دنیش بھاردواج، ہمانی جین، اوشا شرما، صاحب کمار، راکھی کمار، اشوک پانڈے، راجیش کمار، انل رانا، دیویندر کمار، روناکشی شرما اور منیشا شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مکیش گویل کا دعویٰ ہے کہ ان کی نئی پارٹی کو 15 کونسلروں کی حمایت حاصل ہے، جو آنے والے دنوں میں عآپ کے لیے مزید سیاسی خطرہ بن سکتی ہے۔ آج ہیم چند گویل کی صدارت میں ہونے والی اہم میٹنگ میں مکیش گویل کو پارٹی لیڈر چُنا گیا، جسے دہلی میں ممکنہ "تھرڈ فرنٹ” کی ابتدا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عآپ کی اعلیٰ قیادت نے اس پیش رفت پر فی الحال کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ نگار اسے پارٹی کے اندر جاری خلفشار کی ایک اور بڑی علامت قرار دے رہے ہیں۔
#WATCH | Delhi | On his resignation from the AAP, party councillor Mukesh Goel says, "About 15 councillors have resigned from the primary membership of Aam Aadmi Party and formed a new party, Indraprastha Vikas Party. Despite being in power, we could not work for the service of… pic.twitter.com/un3D49WEXQ
— ANI (@ANI) May 17, 2025
اگر "اندر پرستھ وکاس پارٹی” ابھرتی ہے تو کیا بدلے گا؟
1. عام آدمی پارٹی پر دباؤ میں اضافہ
-
13 کونسلروں کا ایک ساتھ استعفیٰ دینا پہلے ہی عآپ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
-
اگر اندر پرستھ وکاس پارٹی عوامی حمایت حاصل کرنے لگے، تو عآپ کی بلدیاتی سطح پر گرفت مزید کمزور ہو جائے گی۔
2. نیا تیسرا محاذ (Third Front) بن سکتا ہے
-
دہلی میں بی جے پی اور عآپ کے بعد کوئی تیسری طاقت نظر نہیں آتی تھی۔
-
یہ نئی پارٹی اگر صحیح حکمتِ عملی اپناتی ہے، تو نئی ووٹر بیس تیار کر سکتی ہے، خاص طور پر ناراض عآپ ووٹرز یا غیر مطمئن کانگریس سپورٹرز کو۔
3. کیجریوال کی قیادت پر سوالات مزید گہرے ہوں گے
-
استعفیٰ دینے والے کونسلرز نے قیادت کی ناکامی کا الزام لگایا ہے۔
-
اگر اندر پرستھ پارٹی مقبول ہوتی ہے تو یہ بیانیہ مضبوط ہوگا کہ کیجریوال اب مؤثر لیڈر نہیں رہے۔
4. بلدیاتی سیاست میں نیا مقابلہ
-
دہلی میونسپل کارپوریشن میں نئی پارٹی اگر اچھی کارکردگی دکھاتی ہے، تو مستقبل کے MCD انتخابات میں تیسری بڑی جماعت بن سکتی ہے۔
5. ریاستی اسمبلی میں طویل المدتی اثرات
-
اگر پارٹی مضبوط ہوتی ہے اور عوامی رابطہ بناتی ہے، تو 2025 یا اس کے بعد دہلی اسمبلی انتخابات میں چوتھی بڑی جماعت کے طور پر ابھر سکتی ہے، جیسا کہ عام آدمی پارٹی نے 2013 میں کیا تھا۔



