امانت اللہ خان کو’ ہسٹری شیٹر‘ قرار دیا گیا دہلی پولیس نے اب تک 18 کیسز درج کیے-امانت اللہ خان کو ضمانت ملی
امانت اللہ خان کو’ ہسٹری شیٹر‘ قرار دیا گیا دہلی پولیس نے اب تک 18 کیسز درج کیے
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اکثر سرخیوں میں رہنے والے عام آدمی پارٹی (آپ) کے ایم ایل اے امانت اللہ خان پرالزامات بڑھتے جا رہے ہیں۔ان کے خلاف کاررووائی پرعام آدمی پارٹی اورکجریوال پوری طرح چپ ہیں۔ دہلی پولیس نے جمعہ کو کہاہے کہ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان کو 30 مارچ کو ہی ہسٹری شیٹر اور بی سی (خراب کردارکاحامل) قرار دیا گیا ہے۔امانت اللہ خان کے خلاف اب تک 18 فوجداری مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ امانت اللہ عادی ہیں۔ ان کے خلاف زمینوں پر قبضے اور مارپیٹ کے مقدمات بھی درج ہیں، 28 مارچ کو ایس ایچ او جامعہ نگر کی جانب سے امانت اللہ خان کو بنڈل اے کا بی سی بنانے کی تجویز جاری کی گئی تھی، جسے ڈی سی پی نے 30 مارچ کو منظور کر لیا تھا۔
دہلی کی ساکیت عدالت نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو ضمانت دے دی ہے۔لیکن اس دوران ان کی پوری پارٹی خاموش رہی۔بات با ت پراحتجاج کرنے والے کجریوال ایک بیان تک نہ دے سکے۔ امانت اللہ کو دہلی میونسپل کارپوریشن کی انسداد تجاوزات مہم کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ امانت اللہ کو کل دہلی پولیس نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بعد میں عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا۔
درج کی گئی ایف آئی آر میں اے اے پی ایم ایل اے پر فساد بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ امانت اللہ خان اپنے حامیوں کے ساتھ مدن پور کھدر میں ایس ایم ڈی کی انسداد تجاوزات کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے وہاں پہنچے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے ایم سی ڈی ملازمین پر پتھراؤکیا۔ دہلی پولیس کو بھیڑ پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اے اے پی ایم ایل اے کے علاوہ پولیس نے چھ دیگر لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیاہے۔



