
مدھیہ پردیش میں لاوارث مٹھائی کھانے سے دو افراد کی موت
لاوارث مٹھائی کھانے سے دو افراد کی موت، مدھیہ پردیش میں سنسنی
بھوپال 13/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش میں چند روز قبل آلودہ پانی سے ہونے والی اموات کے بعد اب ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں لاوارث مٹھائی کھانے سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد لوگ اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا قائم کر دی ہے۔
یہ واقعہ ریاست کے چھندواڑہ ضلع کے جنادیو علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم شخص مبینہ طور پر سرکاری محکمے کے سامنے واقع ایک ہوٹل کے قریب مٹھائی سے بھرا ایک تھیلا چھوڑ کر غائب ہو گیا۔ بعد میں یہی لاوارث مٹھائی لوگوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوئی۔
عینی اطلاعات کے مطابق مٹھائی کھانے کے فوراً بعد پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ میں تعینات گارڈ دسرو یدوونشی کی طبیعت بگڑ گئی، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس کے بعد ایک اور بزرگ شخص سندر لال کتھوریا بھی علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ یوں اس واقعے میں اب تک دو اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
مشتبہ مٹھائی کھانے والے ایک ہی خاندان کے تین دیگر افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں احتیاطی تدابیر سخت کر دی ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا مٹھائی میں جان بوجھ کر زہریلا مادہ ملایا گیا تھا یا یہ کسی سنگین غفلت کا نتیجہ ہے۔ نامعلوم شخص کی شناخت کے لیے آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی کھنگالی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں متوفین کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانہ منتقل کر دی گئی ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔ ادھر فوڈ اینڈ ڈرگ ڈپارٹمنٹ نے مٹھائی کے نمونے سیل کر کے جانچ کے لیے بھوبھال بھیج دیے ہیں۔
واقعے کے بعد جنادیو اور آس پاس کے علاقوں میں سنّاٹا چھایا ہوا ہے۔ مقامی لوگ خوف کے باعث کھل کر کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی لاوارث کھانے پینے کی چیز سے دور رہیں اور مشتبہ اشیا کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی بھی انسانی جانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔



