قومی خبریں

الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد عباس انصاری کی اسمبلی رکنیت بحال

نفرت انگیز تقریر کیس میں ہائی کورٹ سے راحت کے بعد عباس انصاری کی اسمبلی رکنیت بحال

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے چند دن بعد، اتر پردیش اسمبلی نے پیر کو سماج وادی پارٹی کے رہنما اور مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کی رکنیت بحال کر دی۔ ایک سینئر عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی اسمبلی رکنیت بحال کر دی گئی ہے۔

عباس انصاری نے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں مئو سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، مئی 2025 میں تین سال پرانے ہیٹ اسپيچ کیس میں انہیں دو سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ اسمبلی رکنیت سے محروم ہوگئے تھے۔

یہ معاملہ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران سامنے آیا تھا، جب عباس انصاری نے ایک انتخابی جلسے میں کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد سب کا احتساب ہوگا۔ اس بیان کو اشتعال انگیز اور عہدیداروں کو دھمکی دینے والا سمجھا گیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی انتخابی مہم پر پابندی لگا دی تھی۔انہوں نے پہلے مئو سیشن کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل کی، جہاں عدالت نے سزا پر تو روک لگا دی لیکن سزا کی بنیاد پر ہونے والی نااہلی ختم نہیں کی۔ بعدازاں، عباس نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

20 اگست 2025 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ "سزا پر روک نہ لگانا نہ صرف انصاری بلکہ ان ووٹروں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے جنہوں نے انہیں منتخب کیا۔”جسٹس سمیر جین نے اپنے فیصلے میں 2024 کے سپریم کورٹ کے اس حکم (راہل گاندھی بمقابلہ پرنیش ایشور بھائی مودی) کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ کسی عوامی نمائندے کی نااہلی اس کے ساتھ ساتھ عوام کے حق نمائندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف اس بات پر ہے کہ اپیل کے دوران سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اسمبلی سیکرٹریٹ کے اس حکم کے بعد مؤ صدر اسمبلی سیٹ پر ہونے والا مجوزہ ضمنی انتخاب ملتوی کر دیا گیا۔عباس انصاری کو نفرت انگیز تقریر کیس میں مؤ کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کی وجہ سے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ ہو گئی تھی۔ تاہم ہائی کورٹ نے نظرثانی عرضی نمبر 3698/2025 پر سماعت کرتے ہوئے سزا پر روک لگا دی۔

دوسری طرف اتر پردیش حکومت نے لکهنؤ کے پوش علاقے دالی باغ میں واقع وہ زمین، جو پہلے مختار انصاری کے غیر قانونی قبضے میں تھی، واپس لے لی ہے۔ لکهنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA) نے اس زمین پر عوامی سہولت کے لیے 72 رہائشی فلیٹس تعمیر کر دیے ہیں۔

چار منزلہ یہ عمارتیں 360 اسکوائر فٹ کے فلیٹس پر مشتمل ہیں، جن میں دو کمرے، ایک باتھ روم، ایک پینٹری اور ایک بالکنی شامل ہے۔ ہر فلیٹ کی قیمت 9 لاکھ سے 9.5 لاکھ روپے کے درمیان رکھی گئی ہے۔ یہ فلیٹس صرف معاشی طور پر کمزور طبقے کے افراد کو ملیں گے، جن کی سالانہ آمدنی 3 لاکھ روپے سے کم ہے۔

فلیٹس کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگی اور درخواست دینے کا عمل اس ماہ کے آخر تک شروع ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button