معاہدۂ ابراہیم کی آڑ میں: اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے والے عرب ممالک میں عوامی مخالفت پنپنے لگی
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا اثر خطے کے دیگر عرب ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔
دبئی ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا اثر خطے کے دیگر عرب ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ وہ عرب ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر ہیں یا جو ان تعلقات کو بہتر بنانے پر غور کر رہے ہیں وہاں اس بات کے لیے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو ختم کیا جائے۔سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کو تین ہفتے گزر چکے ہیں۔ جیسے جیسے جنگ میں شدت آئی ہے مختلف ممالک کے بیانات بھی تبدیل ہوئے ہیں۔عرب رہنماؤں کی جانب سے اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر مزید تنقید کرتے ہوئے امن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مراکش کے دارالحکومت رباط اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکلے۔
اسی طرح بحرین کے دارالحکومت مناما میں گزشتہ ماہ اسرائیل کے سفارت خانے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پرچم تھامے ہوئے تھے۔بحرین ایک ایسا ملک ہے جہاں احتجاج کی اجازت ملنا مشکل ہے لیکن اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مارچ کے دوران پولیس کی نفری بھی موجود رہی۔خبر رساں کے مطابق یہ مظاہرے جو پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے مظاہروں کی عکاسی کرتے ہیں، ان حکومتوں کے لیے ایک المیہ ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ قریبی فوجی اور اقتصادی تعلقات کے فوائد حاصل کیے ہیں۔مصر،جس کے اسرائیل کے ساتھ دہائیوں سے تعلقات ہیں، وہاں بھی مختلف شہروں اور جامعات میں مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں جب کہ کچھ مقامات پر اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ وہ عام شہریوں پر کہیں بھی ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ لیکن بعد ازاں اس نے اسرائیل کو تشدد کو بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی کوششوں کو اجاگر کیا۔اس کے علاوہ تیونس میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے گزشتہ ہفتے ایک مسودہ قانون پیش کیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کو جرم قرار دے گا۔مراکش اور بحرین میں عوامی غم و غصہ ایک الگ تناظر میں ہی ہے۔ کیوں کہ حقوق کے سرگرم کارکن مطالبہ کررہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات کے معاہدوں کو ختم کیا جائے۔ اس احتجاج نے حکومتوں اور رائے عامہ کے درمیان اختلاف کو واضح کردیا ہے۔خیال رہے کہ سال 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں مختلف عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے جنہیں معاہدۂ ابراہیم کا نام دیا گیا تھا۔
معاہدۂ ابراہیم کا مقصد عرب ممالک میں اسرائیل کو وسیع پیمانے پر تسلیم کرنا شامل تھا اور ان معاہدوں نے بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدوں اور فوجی تعاون کی راہ ہموار کی تھی۔اس معاہدے کو مراکش کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا کیوں کہ امریکہ اور بالآخر اسرائیل نے متنازع مغربی صحارا ریجن پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا تھا۔البتہ مراکش کی وزارتِ خارجہ نے ابراہم معاہدے یا حالیہ احتجاج پر کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
مذکورہ معاہدے کی وجہ سے ہی واشنگٹن نے سوڈان کو دہشت گردی کے لیے ریاستی سہولت کاری کی فہرست سے نکال دیا تھا جس نے ملک میں جمہوریت نواز تحریک اور بڑھتی مہنگائی سے لڑنے والی حکمران فوجی جنتا کو ایک نئی زندگی دی تھی۔البتہ اسرائیل اور حماس جنگ کے خلاف سوڈان اور متحدہ عرب امارات میں بڑے مظاہرے نہیں دیکھے گئے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کو ابتدائی طور پر سنگین تصادم قرار دیا تھااور اس کے وزیر خزانہ نے صحافیوں کو کہاتھا کہ ملک تجارت اور سیاست کو ایک دوسرے سے نہیں ملاتا۔تاہم منگل کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملے کے بعد متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا کہ ”اندھا دھند حملوں کے نتیجے میں خطے میں ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے ۔



