25 سال کی سزا کے باوجود ابو سالم کو رہائی نہیں، سپریم کورٹ نے بڑی راحت سے انکار
وکیل نے دلیل دی کہ ان کا موکل 25 سال کی سزا پوری کر چکا ہے
نئی دہلی 16 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مجرم گینگسٹر ابو سالم کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کی رہائی کی عرضی مسترد کرتے ہوئے فوری راحت دینے سے انکار کردیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران ابو سالم کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کا موکل 25 سال کی سزا پوری کر چکا ہے، اس لیے اسے رہا کیا جانا چاہیے۔ اس پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا 25 سال کی مدت کا حساب رعایت کو شامل کرکے لگایا جا رہا ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ سزا کی گنتی طے شدہ قانونی اصولوں کے مطابق ہی ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ طویل قانونی کارروائی کے بعد ابو سالم کو 11 نومبر 2005 کو پرتگال سے ہندوستان لایا گیا تھا۔ ہندوستان اور پرتگال کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت اسے سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی 25 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ یہی شرط اس کے حوالگی عمل کی بنیاد بنی تھی۔
ابو سالم کو 2002 میں پرتگال میں فرضی پاسپورٹ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ہندوستان نے اس کی حوالگی کی باضابطہ درخواست دی۔ پرتگال نے حوالگی کی منظوری دیتے وقت شرط رکھی تھی کہ اسے پھانسی یا 25 سال سے زیادہ قید نہیں دی جائے گی۔ ہندوستانی یقین دہانی کے بعد فروری 2004 میں پرتگال کی عدالت نے حوالگی کو منظوری دی، جس کے بعد نومبر 2005 میں اسے ہندوستان منتقل کیا گیا۔
1993 کے ممبئی بم دھماکے ملک کی تاریخ کے ہولناک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 12 مارچ 1993 کو دوپہر کے وقت شہر کے مصروف علاقوں میں یکے بعد دیگرے دھماکے کیے گئے تھے۔ اسٹاک ایکسچینج اور ایئر انڈیا عمارت سمیت کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں بڑی تعداد میں جان و مال کا نقصان ہوا۔ یہ معاملہ آج بھی ہندوستانی عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شامل ہے۔



