خواص ادویہ,ریٹھہ (سکاکائی)✍️حکیم محمد عثمان حبان دلدارؔ قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
خشک کھانسی: پھل کا سفوف بنا کر 5 گرام ہمراہ پانی لینے سے خشک کھانسی کو آرام آجاتاہے۔
مختلف نام: اردو سکاکائی، ہندی شکاکائی shikakai ، بنگالی بن ریٹھا، تیلگو چیکائے، تامل شہکائے، گجراتی ریٹھا اور چیکائی، گوگو اور لاطینی میں اکیشیا کونسنا ڈے (Acacia Concinanada) کہتے ہیں۔
شناخت: یہ ایک کانٹے دار بڑی جھاڑی ہوتی ہے۔ اس کی ڈالیاں بھوری سفید اور دھبے والی ہوتی ہیں۔ اس کے پتے ترش ہوتے ہیں۔ اس کی ایک ایک پھلی میں 1 سے 12 تک بیج ہوتے ہیں۔ اس کی پھلیوں میں صابن میں کام آنے والا جھاگ 12 فیصد تک ہوتا ہے۔یہ ہندوستان کے جنگلوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی پھلی ہی زیادہ تر استعمال میں لائی جاتی ہے۔خوراک: پھلی کا سفوف 10 سے 20 گرام۔
فوائد: اس کی پھلیاں کڑوی، چرپری ہوتی ہیں۔ مختلف بیماریوں کو دور کرنے،جگر کے امراض میں مفید ہے۔ بواسیر میں فائدہ دیتی ہیں۔
بلغمی امراض میں بلغم کو پتلا کرنے کے لئے اور سانس کی رکاوٹ کم کرنے کے لئے ایک اونس پھلیوں کا جوشاندہ بنا کر دیا جاتا ہے۔ اس کے پتوں کالی مرچ کے ساتھ دینے سے قبض دور ہوتا ہے۔ جگر کے امراض میں خوراک میں ترشی لانے کے لئے املی کی جگہ شکاکائی کے تازہ پتے دیتے ہیں۔ اس کی پھلیوں کے جو شاندے سے سر دھونے سے سر کی جوئیں اور لیکھیں مرجاتی ہے۔ اور بال لمبے ہو جاتے ہیں۔
ایگزیما: پھوڑے پھنسی میں اس کے بیرونی استعمال سے آرام ہوجاتا ہے۔اپھارہ: اس کے پتوں کو پیس کر نیم گرم حالت میں لیپ کریں۔ اپھارہ دور ہوگا۔تلی کے امراض: اس کی بالکل نرم پتیوں بارہ گرام لے کر جوشاندہ ملاکر پلائیں، جگر اور تلی کے امراض میں مفید ہے۔
خشک کھانسی: پھل کا سفوف بنا کر 5 گرام ہمراہ پانی لینے سے خشک کھانسی کو آرام آجاتاہے۔
مزاج: گرم و خشک درجہ اول۔
سوزاک: ریٹھ کا چھلکا 30 گرام، الائچی خورد 10 گرام سفوف بناکر زیرو سائز کیپسول بھرلیں، صبح نہار منہ اور شام ایک کیپسول ہمراہ ایک کپ چھاچ کھائیں۔ سوزاک کا بگڑا ہوا مریض اور شدید خارش کا مریض چند دن میں بفضلہ تعالیٰ ٹھیک ہوجاتا ہے۔
سر درد: ریٹھہ کا چھلکا دس گرام اور دھنیا خشک دس گرام دونوں کو باریک غباربناکر رکھ لیں، دن میں دو مرتبہ نسوار دیں ناک سے پانی بہہ کر سر درد ختم ہوجائے گا۔
نظر کیلئے: ریٹھہ کا باریک سفوف دو گرام 16 گھنٹے عرق گلاب میں کھرل کریں، غبار ہوجانے پر کپڑے میں چھان لیں، سوتے وقت ایک سلائی آنکھ میں لگائیں، نظر تیز کرتا ہے، چالا اور آنکھ کے جملہ امراض میں مفید ہے۔
افعال واستعمال: اس کو زیادہ تر عورتیں سر کے بال دھونے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔سوا تولہ پھلیاں ڈھائی پاو پانی میں پکا کر سر دھونے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں اور بفہ سر کی خشکی دور ہو جاتی ہے۔آج کل اس کا استعمال شیمپو میں زیادہ ہوتا ہے۔اندرونی طور پر ملین،منفث بلغم اور مانع تپ لرزہ ہے۔اس کے نرم و نازک پتوں کو نمک ،املی اور مرچ کے ساتھ پیس کر بطور چٹنی استعمال کرتے ہیں جو کہ صفراوی مزاجوں کے لیے مفید ہے۔



