
صارفین لاعلم، بینکوں سے عدم تشہیر، عوام کو استفادہ کا حق
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بینک میں کھاتہ رکھنے والوں کو جاری کئے جانے والے اے ٹی ایم کے ساتھ ہی صارفین کا بینک کی جانب سے انشورنس کروایا جاتا ہے اور ہر اے ٹی ایم رکھنے والے صارف کا حادثاتی انشورنس ہوتا ہے جس میں حادثہ میں زخمی ہونے یا موت واقع ہونے پرایک سے 5لاکھ روپئے تک انشورنس کمپنی سے حاصل ہوسکتے ہیں
لیکن عام طور پر بینک کی جانب سے یہ تفصیلات صارفین کو فراہم نہیں کی جاتی ہیں اور کسی حادثہ کی صورت میں کمپنی کی جانب سے حاصل ہونے والی رقومات بینکوں میں جمع ہوجاتی ہیں۔قومیائے ہوئے بینک ہوں یا خانگی بینک کسی بھی بینک کی جانب سے جاری کئے جانے والے اے ٹی ایم کارڈ کے ساتھ یہ انشورنس کیا جاتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انشورنس کے لئے بینک کی جانب سے صارف سے ہی رقم وصول کی جاتی ہے لیکن بینک عہدیدار اے ٹی ایم صارفین کو حاصل انشورنس کی سہولت کے سلسلہ میں تشہیر نہیں کرتے۔
جس کی وجہ سے 90فیصد سے زیادہ شہریوں کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ وہ بینک پر انشورنس کا ادعا پیش کرسکتے ہیں۔ ماسٹر کارڈ رکھنے والوں کو دو لاکھ روپئے تک کا انشورنس حادثاتی موت کی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جبکہ ویزا کارڈ رکھنے والوں کو 2لاکھ روپئے تک کے حادثاتی انشورنس کے حصول کی گنجائش موجود ہے۔
حادثہ کی صورت میں ایک ہاتھ یا پیر ضائع ہونے پر 50 ہزار روپئے حاصل کئے جاسکتے ہیں جبکہ دونوں ہاتھ یا پیر ضائع ہونے کی صورت میں کارڈ صارفین کو ایک لاکھ روپئے تک حاصل ہوسکتے ہیں۔ماسٹر اور ویزا کارڈ رکھنے والے صارفین کو حاصل اس سہولت کے متعلق باشعور بنایا جانا ضروری ہے اور بینکوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صارفین کو باخبر رکھیں۔



