قومی خبریں

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی پر حملے کے ملزمین نے کئے کئی انکشافات

لکھنؤ،4فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے قافلے پر جمعرات کی شام حملہ کیا گیا۔ اویسی کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے 3 سے 4 راؤنڈگولیاں چلائی تھیں۔ اس حملے میں اسدالدین اویسی بال بال بچ گئے۔

اس معاملے میں اتر پردیش پولیس نے اسد الدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے دو ملزمین کو گرفتار بھی کیا ہے۔ دونوں ملزمان نے پولیس کی تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے ملزم سچن اور شوبھم نے بتایا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سال 2013-14 میں رام مندر کے بارے میں بیان دیا تھا،جس کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوئی تھی۔ اس لیے انہوں نے اسدالدین اویسی کے قافلے پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیاہے اور اسے انجام بھی دے ڈالا۔

یوپی پولیس کے اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے جمعہ کو کہا کہ ملزمین نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ انہیں اسد الدین اویسی کے سال 2013-14 میں رام مندر کے بارے میں دیئے گئے بیان سے تکلیف ہوئی تھی ،پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ گرفتار ملزم سچن اور شوبھم کو اسدالدین اویسی کے مخصوص مذہب کے خلاف بیانات سے کافی دکھ ہوا ہے۔

اسی وجہ سے اس نے انہوں نے اسدالدین اویسی پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ خیال رہے کہ گرفتار ملزمین میں سچن گوتم بدھ نگر کا رہنے والا ہے، جبکہ شوبھم سہارنپور کا رہنے والا ہے۔

سچن سے 9 ایم ایم کا غیر قانونی آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیاہے۔ اتر پردیش پولیس نے اس واقعہ کی مکمل رپورٹ الیکشن کمیشن اور لوک سبھا کو بھیج دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button