قومی خبریں

آچاریہ پرمود کرشنم کا مسلمانوں سے سوال سی اے اے اگر ہندوستانی مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں تو پھر اس کی مخالفت کیوں؟

نئی دہلی ،26مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اگر کوئی قانون یا کوئی بات صحیح ہے تو اس کو درست کہنا چاہئے اور اگر غلط ہے تواس کی مخالفت بھی ہونی چاہئے۔ لیکن اگرکسی قانون سے یا شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے کوئی نقصان نہیں ہے توبلاوجہ اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے اورجو لوگ گمراہ کرکے سیاست کرنا چاہتے ہیں، ان کو جواب دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار آچاریہ مرمود کرشنم نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے زیراہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرمیں سی اے اے اور ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی گھر ایسا نہیں ہے، جہاں سبھی ہم خیال یا ایک خیال کے ہوں۔ اسی طرح کوئی محلہ یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے، جہاں پر سبھی لوگ ایک خیال رکھتے ہوں۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ حکومت نے سی اے اے کو نافذ کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگرفرق نہیں پڑنے والا ہے تو پھراس کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن اگرسی اے اے سے مسلمانوں کا نقصان ہے تو اس کی مخالفت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بیٹھ کربات چیت کرکے فیصلہ کرنا ہوگا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ ورنہ مخالفت کرتے رہیں گے اوروقت نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ، خدا اورایشورسبھی ایک ہیں۔ صرف زبان اورمذہب کا فرق ہے۔ اس لئے کسی سے ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے۔ سب اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button