آسام چائلڈ میرج کے خلاف کاروائی ، اب تک 2278 گرفتار
اگر دولہے کی عمر 14 سال سے کم ہو تو اسے سدھار گھر لے جایا جائے گا
گوہاٹی ، 5فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آسام پولیس نے اتوار (5 فروری) تک ریاست بھر میںکم عمری کی شادی سے متعلق معاملات میں 2278 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 4074 مقدمات درج کیے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے ہفتہ (4 فروری) کو اعلان کیا کہ ریاستی پولیس کی انسداد بچپن کی شادی کے خلاف مہم 2026 میں اگلے اسمبلی انتخابات تک جاری رہے گی۔ سرما کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والے والدین کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں وارننگ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری مہم 2026 تک جاری رہے گی، جب اگلے اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ اس وقت تک ریاست میں کم عمری کی شادی کا کوئی کیس نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نوعمری میں شادی کے نظام کو کنٹرول کریں، اور اس مسئلے کے خلاف بیداری پیدا کریں۔آسام کی کابینہ نے 23 جنوری کو فیصلہ کیا تھا کہ 14 سال سے کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنے والوں کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (POCSO) ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ 14 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنے والے افراد کے خلاف پرہیبیشن آف چائلڈ میرج ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انہیں گرفتار کیا جائے گا اور ان کی شادیوں کو غیر آئینی قرار دیا جائے گا۔
اگر دولہے کی عمر 14 سال سے کم ہو تو اسے سدھار گھر لے جایا جائے گا۔ وہیںاے آئی یو ڈی ایف نے اس کارروائی کیخلاف آواز اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیداری پیدا کیے بغیر لوگوں کو گرفتارکرنا غلط ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف ایم ایل اے امین الاسلام نے کہا کہ ہماری پارٹی کم عمری کی شادی کی بھی مخالفت کرتی ہے۔ امین الاسلام نے کہا کہ حکومت بیداری پھیلانے، شرح خواندگی میں اضافہ جیسے اقدامات پر توجہ نہیں دے رہی ہے،لیکن ایک غیر ضروری امر کے تحت بچوں کی شادی کے نام پر لوگوں کو جیل بھیج رہی ہے ،یہ قابل مذمت ہے۔



