
امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کی معلومات نہ دینے والی پارٹیوں پرہوگی کاروائی ؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا
نئی دہلی، 20 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے انتخابات کے دوران امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈکی تفصیلات میڈیا میں شائع کرنے میں الیکشن کمیشن کی ناکامی کے خلاف دائر درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔ عدالت نے 2018 میں حکم دیا تھا کہ امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں معلومات #اخبارات اور ٹی وی #چینلز میں #نشر کی جائیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ گذشتہ سال ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات میں اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی تھی۔
ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن کے عہدیداروں اور سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جانی چاہئے۔2018 میں دئے گئے فیصلے کی عدم تعمیل کولے کر معلومات موصول ہونے پر سپریم کورٹ نے 13 فروری 2020 کو بھی حکم دیا تھا کہ سیاسی پارٹی کسی امیدوار کو ٹکٹ دینے کے 48 گھنٹوں کے اندرایک علاقائی اخبار اور ایک قومی اخبار میں اس کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں معلومات شائع کریں۔
پارٹیاں یہ معلومات ٹی وی چینلز پربھی نشر کریں۔سیاسی جماعتوں کو یہ معلومات اپنی سرکاری ویب سائٹ اور فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹس پربھی ڈالنی چاہئے۔امیدوار کو ٹکٹ دینے کے 72 گھنٹوں کے اندر الیکشن کمیشن کو مکمل معلومات دیں۔
#سیاسی #جماعت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس نے اس امیدوار کو کیوں ٹکٹ دیا جس کے خلاف فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں، کیا وہاں کوئی بے داغ امیدوار نہیں تھا؟۔الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے آج عدالت کو بتایا کہ 2020 بہار #اسمبلی #انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل کے 103، بی جے پی کے 77، جے ڈی یو 56، این سی پی کے 26 اور سی پی آئی (ایم) کے 4 افراد تھے جن پر مجرمانہ ریکارڈ درج ہیں۔
پارٹیوں کو عدالت کے فیصلے کے بارے میں بتایا گیا لیکن زیادہ تر معاملات میں اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت انتخابات کرانے کا اختیار حاصل ہے لیکن اس کی ہدایت پر عمل نہیںکرنے والی پارٹیوں کے خلاف کارروائی کا اتنا اختیار نہیں ہے ۔
#الیکشن #کمیشن کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے کہا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہونی چاہئے۔ سالوے نے ایک معاملے میں وکیل پرشانت بھوشن کو دی جانے والی سزا کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پارٹیوں کے لیڈران پر 1 روپے جرمانے کی طرح کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ اس سے لیڈران مسکراکر تصویرکھنچواتے ہوئے پیسہ جمع کرنے آجائیں گے ۔



