اڈانی معاملہ ہندوستان میں’ جمہوریت‘ بحال کرے گا، امریکی ارب پتی کا دعویٰ
امریکی ارب پتی سرمایہ کار جارج سوروس کا کہنا ہے کہ
واشنگٹن ، 17فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی ارب پتی سرمایہ کار جارج سوروس کا کہنا ہے کہ گوتم اڈانی کی کاروباری سلطنت میں اتھل پتھل ہندوستانی شیئر بازاروں میں حصص فروخت کرنے کے رجحان کا باعث بنی ہے اور اس سے ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہلچل ملک میں جمہوریت کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ خیال رہے کہ امریکی فرم ہنڈن برگ ریسرچ کی ایک رپورٹ میں اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہونے کے بعد ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ ہل گئی ہے اور اس رپورٹ نے ہندوستان کے ریگولیٹری فریم ورک پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سوروس نے یہ بیان اس وقت دیا جب وہ میونخ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مودی اس پورے معاملے پر خاموش ہیں لیکن انہیں جواب دینا ہوگا، خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سوالات پر اور انہیں پارلیمنٹ میں بولنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ یہ کیس یقینی طور پر حکومت ہند پر مودی کی گرفت کو بڑے پیمانے پر کمزور کر دے گا اور ادارہ جاتی اصلاحات کا راستہ کھولے گا، جو طویل عرصے سے محسوس کیے جا رہے تھے۔ میں اس معاملے میں ایک نو سکھیا ہو سکتا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ ہندوستان میں جمہوریت کے دوبارہ قیام کا باعث بنے گا۔
سوروس ایک بڑے امریکی ارب پتی ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ تقریباً 8.5 بلین ڈالر ہے۔ وہ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کے بانی ہیں، جو ان لوگوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے جو دنیا بھر میں جمہوریت، شفافیت اور آزادی اظہار رائے کو فروغ دیتے ہیں۔واضح رہے کہ ہنڈن برگ ریسرچ نے جنوری کے آخری ہفتے میں اڈانی گروپ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں اس گروپ پر اپنی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا تھا۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے حصص کی قیمت گر گئی اور ان کی دولت میں تقریباً 12 لاکھ کروڑ کی کمی واقع ہوئی۔ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں
کبھی دوسرے نمبر پر رہنے والے گوتم اڈانی اب ٹاپ 20 امیر ترین افراد کی فہرست سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔یاد رہے کہ ڈیووس میں 2020 کی عالمی اقتصادی کانفرنس میں بھی جارج سوروس نے کہا تھا کہ ہندوستان میں جس طرح سے قوم پرستی کا نعرہ لگایا جا رہا ہے وہ کھلے معاشرے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ہندوستان کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔سوروس کے تازہ بیان پر مرکزی حکومت جارحانہ انداز میں دفاع پر اتر آئی ہے۔ اس معاملے پر مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے پریس کانفرنس کر کے کہا ہے کہ یہ ایک غیر ملکی سازش ہے، جس میں وزیر اعظم مودی کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔



